اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی بجلی صارفین کے لیے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے، جس کے تحت یکم جنوری سے بجلی کے اوسط بنیادی نرخ میں ایک روپے 79 پیسے فی یونٹ اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی درخواست پر بنیادی ٹیرف میں اضافے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے، جسے حتمی منظوری کے لیے وفاقی حکومت کو ارسال کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد ہوگا۔
نیپرا کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق نئے فیصلے کے بعد بجلی کا اوسط بنیادی ٹیرف 33 روپے 38 پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اس وقت ملک میں بجلی کا نافذ العمل بنیادی نرخ 31 روپے 59 پیسے فی یونٹ ہے۔ اس طرح نیا متعین کردہ ٹیرف موجودہ نرخ کے مقابلے میں ایک روپے 79 پیسے فی یونٹ زیادہ ہے، جس سے گھریلو اور تجارتی صارفین پر مالی دباؤ میں اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نیپرا کے مطابق رواں مالی سال کے لیے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی مجموعی مالی ضروریات کا تخمینہ 3 ہزار 379 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ ان مالی ضروریات میں سے 2 ہزار 923 ارب روپے بجلی کی خریداری کی لاگت پر مشتمل ہیں، جبکہ 456 ارب 15 کروڑ روپے ڈسکوز کے اخراجات ہیں، جن میں ان کمپنیوں کا منافع بھی شامل ہے۔ اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موجودہ سال کے دوران بجلی کی مجموعی سالانہ فروخت کا تخمینہ 101 ارب یونٹس لگایا گیا ہے۔
نیپرا نے یکساں ٹیرف کے نفاذ سے متعلق درخواست بھی وفاقی حکومت کو بھجوا دی ہے، جس پر حتمی فیصلہ حکومت کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں بجلی کے نرخوں کو یکساں بنانا بتایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب صارفین کے لیے ایک قدرے مثبت خبر بھی سامنے آئی ہے۔ نیپرا نے نومبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 93 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق اس کمی کا فائدہ کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کو جنوری کے بجلی بلوں میں ملے گا، تاہم لائف لائن صارفین اس ریلیف سے مستثنیٰ ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ فی یونٹ کمی عارضی ریلیف فراہم کرے گی، لیکن بنیادی ٹیرف میں اضافے کے باعث مجموعی اثر صارفین کے لیے محدود ہی رہے گا۔