غزہ کا بحران: امریکا کا دوہرا مؤقف عالمی اعتماد کے لیے چیلنج

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا نے ایک بار پھر واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں اپنی افواج نہیں بھیجے گا۔ تاہم اسی بیان کے ساتھ پینٹاگون کی جانب سے

یہ اعتراف بھی سامنے آیا ہے کہ واشنگٹن اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر بین الاقوامی افواج کی تعیناتی کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔ یہ دوہرا مؤقف دراصل امریکی خارجہ پالیسی کی اسی پرانی روایت کا تسلسل ہے، جس میں الفاظ امن کے ہوتے ہیں مگر تیاری جنگ کی۔پینٹاگون کا یہ کہنا کہ ’’امریکی افواج غزہ نہیں جائیں گی‘‘ بظاہر اطمینان بخش ہے، لیکن ساتھ ہی یہ تسلیم کرنا کہ ’’بین الاقوامی استحکام فورس‘‘ (International Stabilization Force) کے تحت عسکری دستے فلسطینی سرحد کے قریب تعینات کیے جائیں گے، خطے میں ایک نئے خطرناک توازن کی نشاندہی کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر مقصد امن کا استحکام ہے تو عسکری موجودگی ہی واحد راستہ کیوں؟ کیا انسانی بنیادوں پر تعاون، سفارتی دباؤ یا بین الاقوامی نگرانی کے دیگر طریقے اختیار نہیں کیے جا سکتے؟

امریکی مؤقف میں تضاد صرف الفاظ کا نہیں بلکہ نیتوں کا بھی ہے۔ اگرچہ واشنگٹن اسرائیلی میڈیا کی اُن خبروں کی تردید کر رہا ہے جن میں 500 ملین ڈالر کے تخمینہ سے ایک امریکی فوجی اڈے کے قیام کی بات کی گئی تھی، مگر زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ امریکا اب بھی غزہ کے بحران کو ایک عسکری منصوبے کے ذریعے "قابو” میں لانے کی کوشش کر رہا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کے تحت نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود غزہ میں حالات بدستور غیر یقینی ہیں۔ اگر واقعی امن کی بحالی مقصود ہے تو سب سے پہلے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کی آبادکاری پر توجہ دی جانی چاہیے، نہ کہ نئے فوجی اتحادوں کی تیاری پر۔
امریکا اور اس کے اتحادیوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ غزہ کا مسئلہ عسکری نہیں بلکہ انسانی اور سیاسی ہے۔ اس کے حل کے لیے بندوقوں کی نہیں بلکہ ضمیروں کی ضرورت ہے۔ بین الاقوامی استحکام فورس اگر واقعی قیام امن کے لیے بنائی جا رہی ہے تو اس کا کردار غیر جانب دار، شفاف اور مکمل طور پر اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی ہونا چاہیے — نہ کہ واشنگٹن یا تل ابیب کے مفادات کے تابع۔غزہ میں اب تک 69 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور ایک لاکھ ستر ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔ ایسے میں کسی بھی نئی عسکری موجودگی سے وہاں کے عوام کو مزید خوف اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ امریکا اپنے بیانات اور اقدامات میں مطابقت پیدا کرے، ورنہ ’’امن کے نام پر فوجی تیاری‘‘ تاریخ کے سب سے بڑے تضاد کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں