اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لٹر 55 روپے اضافے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔
حکومتی اعلان کے مطابق اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 321 روپے 17 پیسے فی لٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ Ishaq Dar نے وزیر خزانہ Muhammad Aurangzeb اور وزیر پٹرولیم Ali Pervaiz Malik کے ہمراہ بتایا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کے باعث حکومت کو قیمتیں بڑھانے کا مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ایران پر حملے کے بعد عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق رواں ہفتے امریکی خام تیل کی قیمت میں تقریباً 35 فیصد جبکہ برینٹ تیل کی قیمت میں لگ بھگ 28 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم Shehbaz Sharif کی ہدایت پر ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جو مسلسل پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور قیمتوں کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالا جائے اور خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دوست ممالک سے رابطے بھی جاری ہیں۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں روزانہ بڑھ رہی ہیں اور توانائی کا شعبہ پاکستان کی معیشت سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت توانائی کی فراہمی کو برقرار رکھنے اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ موجودہ حالات غیر معمولی ہیں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے پہلے ہی تیل کے ذخائر بڑھا لیے تھے تاکہ ملک میں قلت پیدا نہ ہو۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے تیل بردار جہاز یمبو اور فجیرہ کی بندرگاہوں کی طرف روانہ ہو چکے ہیں جبکہ سعودی کمپنی آرامکو نے بھی اضافی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وزیر پٹرولیم کا کہنا تھا کہ جیسے ہی عالمی صورتحال بہتر ہوگی حکومت قیمتوں کو دوبارہ کم کرنے کی کوشش کرے گی۔