اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے بتایا کہ حکومت کے بڑے منصوبوں کے دفتر (Major Projects Office) کو جائزے کے لیے بھیجے جانے والے اگلے منصوبوں کا اعلان جمعرات کو کیا جائے گا کارنی نے پیر کے روز فریڈرکٹن میں نیوز کانفرنس کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نیو برنس وِک کے کچھ منصوبے بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں
کارنی نے کہا کہ نیو برنس وِک اس پروگرام کا حصہ ہے اور اس صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کے ساتھ کئی بڑے منصوبوں کے بارے میں بات چیت ہو چکی ہے جو معیار پر پورا اترتے ہیں لہٰذا توقع کی جا سکتی ہے کہ ان میں سے کچھ منصوبے ہفتے کے آخر میں ہونے والے اعلان میں شامل ہوں گے
صحافی کے مزید سوال پر کارنی نے کہا کہ وہ پرنس رُپرٹ (بی سی) آئیں اور سب سے پہلے وہاں اعلان سن سکیں گے پرنس رُپرٹ ایک تجویز کردہ ایل این جی منصوبے کے قریب واقع ہے جسے کینیڈا کی وزیر ماحولیات نے ستمبر میں منظور کیا تاہم دو فرسٹ نیشنز نے وفاقی عدالت میں چیلنج دائر کیا ہے کہ حکومت نے منصوبے کے منفی اثرات پر ان کے تحفظات کو نظر انداز کیا
دو ماہ قبل کارنی نے پانچ منصوبوں کی پہلی فہرست کا اعلان کیا تھا جسے بعض حلقوں نے پہلے ہی ترقی پذیر منصوبوں کو شامل کرنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا تھا ان منصوبوں میں مونٹریال پورٹ کی توسیع، اونٹاریو میں چھوٹا نیوکلئیر پلانٹ، بی سی میں ایل این جی سہولت کی توسیع اور سسکاچوان اور بی سی کے دو کان کنی منصوبے شامل تھے
بڑے منصوبوں کے دفتر کی سی ای او ڈان فیرل نے گزشتہ ماہ پارلیمنٹ کی ماحولیاتی کمیٹی کے سامنے کہا کہ کسی منصوبے کے جائزے میں اس کے موجودہ مرحلے کو بھی دیکھا جائے گا انہوں نے کہا کہ کئی منصوبے ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں یا عملدرآمد میں بہت دیر ہیں اور حکومت یہ چاہتی ہے کہ ایسے منصوبے شامل ہوں جو کم وقت میں قابل عمل ہوں
اب تک کسی منصوبے کو قومی دلچسپی کی منظوری نہیں دی گئی جو اسے کچھ قانونی استثنیٰ اور سہولت فراہم کر سکتی ہے جیسے کہ ماہی گیری کے قوانین، خطرے میں موجود انواع سے متعلق قوانین اور اثرات کے جائزے کے قوانین
جب منصوبہ بڑے منصوبوں کے دفتر کو بھیجا جاتا ہے تو اس کا جائزہ لیا جاتا ہے اور سفارشات کے ساتھ حکومت کے پاس واپس بھیجا جاتا ہے جس کے بعد حکومت فیصلہ کرتی ہے کہ آیا اسے قومی دلچسپی کی منظوری دی جائے یا نہیں
کارنی کے انتخاب جیتنے کے بعد بڑے منصوبوں کے دفتر کا قیام اور متعلقہ پروٹوکولز ان کے ابتدائی اقدامات میں شامل تھے وفاقی بجٹ میں اس دفتر کے لیے پانچ سال میں 213.8 ملین ڈالر مختص کرنے کی تجویز ہے اور حکومت قانون سازی کر کے دفتر کو پرائیوی کونسل آفس کے بجائے ایک الگ ادارہ بنانے کا ارادہ رکھتی ہے