اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) غزہ ایک بار پھر دہل اٹھا۔ جنوبی غزہ میں اسرائیلی فورسز کے تازہ حملوں نے تین مزید فلسطینیوں کی جان لے لی
جبکہ درجنوں افراد زخمی ہو کر اسپتالوں اور ملبے کے درمیان زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ نابلس میں ایک نوجوان کو سرِعام گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا جبکہ رفاہ کے شمالی علاقوں پر ہیلی کاپٹروں کی اندھا دھند بمباری نے خوف و دہشت کو کئی گنا بڑھا دیا۔
یہ حملے محض چند گھنٹوں یا چند علاقوں تک محدود نہیں رہے—یہ وہ مسلسل آگ ہے جو برسوں سے فلسطینیوں کی زمین، زندگی اور امیدیں جلا رہی ہے۔ اسرائیل نے مزید 15 فلسطینیوں کی مسخ شدہ لاشیں واپس کی ہیں، وہ لاشیں جن کے وجود پر جنگ کی ہولناکی رقم ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں شہادتوں کی تعداد **69 ہزار 483** سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد **1 لاکھ 70 ہزار** سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ اگر یہ اعداد و شمار کسی اور خطے کے ہوتے تو یہ دنیا بھر میں ایمرجنسی بن چکے ہوتے—مگر غزہ میں انسانی جان شاید دنیا کے ضمیر میں زیادہ وزن نہیں رکھتی۔
تازہ ترین بمباری کے دوران بارش نے ایک اور مصیبت کھڑی کر دی۔ سیکڑوں خیمے زیرِ آب آگئے، ہزاروں بے گھر خاندان جن کے پاس پہلے ہی کچھ نہیں بچا تھا، اب وہ اپنی عارضی پناہ گاہوں سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ بارش کے پانی میں ڈوبے خیمے، ملبے کے ڈھیر، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، چیختے بچے، زخمی ماں، بے بس بزرگ—یہ سب کچھ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ غزہ صرف ایک جنگی نقشہ نہیں بلکہ لاکھوں انسانی زندگیاں ہیں جو ہر روز بکھر رہی ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ یہ سلسلہ کب رکے گا؟ کب عالمی قوتیں انسانی جان کو سیاسی مفادات سے زیادہ اہمیت دیں گی؟ کب عالمی برادری غزہ کے بچوں، عورتوں اور معصوم شہریوں کے لیے وہی آواز اٹھائے گی جو وہ دیگر خطوں کے لیے بلاتوقف بلند کرتی ہے؟غزہ کی تباہی کسی ایک دن کی سانحہ نہیں، بلکہ یہ وہ چلتی جنگ ہے جس نے نسلوں کو یتیم، بے گھر اور زخمی کر دیا ہے۔ ہر نئی بمباری، ہر نیا حملہ، ہر نئی شہادت ہمیں اس حقیقت کے مزید قریب لے جاتی ہے کہ دنیا کی خاموشی دراصل فلسطینیوں کے خلاف سب سے بڑی شراکت داری ہے۔
آج کا غزہ ہمیں پکار رہا ہے کہ اگر ظلم کو روکنا ہے تو الفاظ نہیں، عمل کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جو آگ اب بھی بھڑک رہی ہے، اگر نہ روکی گئی تو آنے والی نسلیں اس پر تاریخ کے سب سے سیاہ باب لکھیں گی۔