اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)تین وفاقی ضمنی انتخابات میں انتخابی مہم اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور پیر کے روز ووٹرز اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔
اگرچہ عمومی اندازوں کے مطابق لبرل پارٹی کو ٹورنٹو کے اطراف کی دو نشستیں برقرار رکھنے کے بعد واضح اکثریت حاصل ہونے کی توقع ہے، لیکن اصل سیاسی دباؤ اب بھی مونٹریال کے مضافاتی علاقے ٹیرے بون کی نشست پر مرکوز ہے۔
لبرل پارٹی نے اس حلقے کو ہر صورت میں اپنے پاس رکھنے کے لیے بھرپور انتخابی مہم چلائی ہے۔ گزشتہ برس یہ نشست صرف ایک ووٹ کے معمولی فرق سے لبرلز نے جیتی تھی، تاہم بعد ازاں عدالت نے اس نتیجے کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جس کے بعد یہاں دوبارہ انتخاب ہو رہا ہے۔ اس صورتحال نے ٹیرے بون کو ایک نہایت اہم اور توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران وفاقی کابینہ کے متعدد وزراء مسلسل اس حلقے کے دورے کرتے رہے، جبکہ وزیرِاعظم مارک کارنی نے بھی جمعرات کے روز خود ٹیرے بون جا کر انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ لبرل قیادت کی یہ کوشش واضح کرتی ہے کہ وہ اس نشست کو اپنی سیاسی ساکھ کے لیے نہایت اہم سمجھتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کار فلپ فورنیے کے مطابق اگر لبرل پارٹی یہ نشست برقرار رکھتی ہے تو اسے نہ صرف سیاسی ساکھ میں اضافہ ہوگا بلکہ یہ پیغام بھی جائے گا کہ جماعت اب بھی ملک کے اہم علاقوں میں مضبوط ہے۔ تاہم اگر یہ نشست بلاک کیوبیکوا کے ہاتھ چلی جاتی ہے تو اسے لبرلز کی کمزوری اور سیاسی رفتار میں کمی کے طور پر دیکھا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیوبیک میں آئندہ چھ ماہ بعد صوبائی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور ٹیرے بون میں اس وقت صوبائی نمائندگی کا تعلق پی کیوبیکوا سے ہے، جس سے اس علاقے کی سیاسی پیچیدگی مزید بڑھ جاتی ہے۔
اس سے قبل لبرل پارٹی طویل عرصے تک اس نشست سے محروم رہی تھی اور صرف گزشتہ برس اسے دوبارہ حاصل کیا گیا تھا۔ دوسری جانب ٹورنٹو کے علاقے سکاربورو ساؤتھ ویسٹ اور یونیورسٹی روزیڈیل کی نشستیں نسبتاً محفوظ سمجھی جا رہی ہیں اور توقع ہے کہ لبرل پارٹی انہیں آسانی سے برقرار رکھ لے گی۔
حال ہی میں ایک قدامت پسند رکنِ پارلیمان مارلن گلاڈو کی جانب سے لبرل پارٹی میں شمولیت نے بھی سیاسی منظرنامے کو کچھ حد تک بدل دیا ہے، جس کے بعد ٹیرے بون کی نشست کی اہمیت اگرچہ برقرار ہے لیکن اسے فیصلہ کن نوعیت کا نہیں سمجھا جا رہا۔