اردوورلڈکینیڈا(ویب نیو)کینیڈا کی پارلیمنٹ میں وزیراعظم مارک کارنی کی قیادت میں لبرلز حکومت نے ایک اہم بجٹ ووٹ 170 کے مقابلے میں 168 ووٹ سے جیت لیا، جس سے ممکنہ سردیوں میں انتخابات کا راستہ بند ہو گیا۔
یہ ووٹ اس لیے انتہائی اہم تھا کیونکہ حکومت اکثریت سے محروم ہے اور بجٹ کی منظوری کو اعتماد کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ اگر یہ بجٹ ناکام ہو جاتا، تو حکومت کو یا تو نئے انتخابات کے لیے جانا پڑتا یا مخالف جماعت کے ساتھ شراکت داری کرنی پڑتی۔
حکومت نے کہا ہے کہ بجٹ کے تحت دفاع، رہائش اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی، تاکہ گھریلو معیشت کی سست روی اور بین الاقوامی تجارتی چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ نئے بجٹ کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 میں 783 ارب کینیڈین ڈالر کا خسارہ متوقع ہے، جو پہلے کے تخمینے 422 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
اس نازک صورتحال میں حکومت کو کچھ مخالف ارکان کی حمایت یا خاموشی درکار تھی، اور حکومت نے چند متوقع مخالف ارکان کو ساتھ لانے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے ذریعے بجٹ کی منظوری ممکن ہوئی اور حکومت نے سیاسی بحران سے بچاؤ کیا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ مارک کارنی کی لبرلز حکومت نے مشکل سے اپنی سیاسی بقا کو برقرار رکھا ہے، اور آنے والے مہینوں میں حکومت کو مذاکرات اور سیاسی حکمت عملی کے ذریعے آگے چلنا ہوگا۔