اردوورلڈکینیڈا (ویب نیوز)کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے پہلا وفاقی بجٹ پیش کر دیا، جس میں موجودہ مالی سال کے لیے 78.3 ارب ڈالر کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے جو پچھلے سال کی پیش گوئی سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔
وفاقی قرضہ 1.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ خسارہ بتدریج کم ہو کر 2029-30 تک 56.6 ارب ڈالر رہ جائے گا۔
کینیڈین ٹیکس پیئرز فیڈریشن نے بڑھتے اخراجات پر تنقید کی اور کہا کہ قرض پر سود کی ادائیگیاں ہر ہفتے ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہیں۔
دوسری جانب، کیلگری چیمبر آف کامرس نے بجٹ میں انفراسٹرکچر اور کاروباری مواقع پر توجہ کو مثبت قرار دیا، جب کہ کیلگری کے میئر جیرو مے فارکاس نے مقامی حکومتوں کے ساتھ تعاون کے وعدے پر محتاط امید ظاہر کی۔
بجٹ میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ جو کمپنیاں کینیڈین مصنوعات نہ خریدیں، انہیں سرکاری خریداری میں حصہ لینے کے لیے وزارتی منظوری درکار ہوگی۔
توانائی کے شعبے کے لیے بجٹ میں اہم اشارہ یہ ہے کہ وفاقی حکومت تیل و گیس کے اخراج کی حد (emissions cap) ختم کرنے پر غور کر رہی ہے، بشرطیکہ متبادل پالیسیوں جیسے کاربن مارکیٹس اور کاربن کیپچر ٹیکنالوجیز مؤثر ثابت ہوں۔
البرٹا کے وزیرِ خزانہ نیٹ ہارنر اور پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اہم صوبائی منصوبوں پر تفصیلات کی کمی محسوس ہوئی اور وہ اب بھی اوٹاوا کے ساتھ توانائی پالیسیوں پر مذاکرات میں مصروف ہیں۔