اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کی باضابطہ توثیق کر دی ہے۔
ایرانی کونسل کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دشمن کو اس “مجرمانہ جنگ” میں ناقابلِ تردید، تاریخی اور عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں امریکہ کو ایران کے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبے کو تسلیم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔بیان کے مطابق Iran کی جانب سے پیش کیے گئے اس جامع منصوبے میں اہم شرائط شامل ہیں جن میں امریکہ کی طرف سے عدم جارحیت کی ضمانت، آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کو برقرار رکھنا، ایران کے جوہری افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا اور تمام بنیادی و ثانوی اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔ مزید برآں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی قراردادوں کو ختم کرنے، ایران کو جنگی نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے اور خطے سے امریکی افواج کے انخلاء کی تجاویز بھی اس منصوبے کا حصہ بتائی گئی ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لبنان سمیت مختلف اسلامی محاذوں پر جنگ بندی کو وسعت دینے کی شق بھی شامل کی گئی ہے۔
ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اس موقع پر قوم پر زور دیا ہے کہ وہ فتح کی مکمل تفصیلات سامنے آنے تک اتحاد اور یکجہتی کو برقرار رکھے۔ دوسری جانب یاد رہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران پہلے ہی دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہو چکے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی صدر نے ایران کی شرائط کو تسلیم کرنے کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا، جبکہ امریکی حکام نے بھی فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روکنے کی تصدیق کی ہے۔
مزید برآں ایران نے اعلان کیا ہے کہ باضابطہ مذاکرات کا آغاز 10 اپریل سے اسلام آباد میں ہوگا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھے تو اس عمل کو مزید توسیع دی جا سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیشرفت نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ اگر فریقین سنجیدگی سے مذاکرات جاری رکھتے ہیں تو ایک مستقل امن معاہدے کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے اعتماد سازی اور عملی اقدامات نہایت اہم ہوں گے۔