اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا میں مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے اور عام شہریوں کے لیے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں مسلسل چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق شماریات کینیڈا نے انکشاف کیا ہے کہ فروری 2026 میں گروسری کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے عوامی بجٹ کو مزید متاثر کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق سب سے نمایاں اضافہ گوشت کی قیمتوں میں دیکھا گیا، خاص طور پر بیف اور چکن کی قیمتیں نمایاں طور پر بڑھ گئیں، جس سے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح کافی کی قیمتوں میں بھی اضافہ نوٹ کیا گیا، جو کہ روزمرہ استعمال کی ایک اہم شے ہے۔ دوسری جانب کچھ پھلوں جیسے کینٹلوپ، ناشپاتی اور نارنگی کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی، تاہم یہ کمی مجموعی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا براہِ راست اثر خوراک کی ترسیل اور پیداوار پر پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں گروسری کی قیمتیں بڑھتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر تیل کی قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں اشیائے خوردونوش مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف گھریلو بجٹ کو متاثر کیا ہے بلکہ حکومت پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ملک میں خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ایک تشویشناک رجحان بن چکا ہے۔ جب شماریات کینیڈا 5.7 فیصد اضافے کی بات کرتا ہے تو یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ لاکھوں گھروں کی روزمرہ زندگی پر پڑنے والا بوجھ ہے۔خوراک انسان کی بنیادی ضرورت ہے، اور جب اسی بنیادی ضرورت کی قیمت بڑھنے لگے تو اس کے اثرات معاشرے کے ہر طبقے پر پڑتے ہیں۔ خاص طور پر متوسط طبقہ، جو پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ میں ہے، اب مزید مشکلات کا شکار ہو رہا ہے۔ بیف، چکن اور کافی جیسی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پروٹین اور روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء بھی اب مہنگی ہوتی جا رہی ہیں۔
یہ مسئلہ صرف مقامی نہیں بلکہ عالمی نوعیت کا ہے۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں، سپلائی چین میں رکاوٹیں، اور موسمیاتی تبدیلیاں خوراک کی قیمتوں پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مہنگائی نہ صرف معاشی بلکہ سماجی مسائل کو بھی جنم دے سکتی ہے۔حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے سبسڈی، ٹیکس میں کمی یا دیگر معاشی پالیسیوں پر غور کرے۔ بصورت دیگر، خوراک جیسی بنیادی ضرورت بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جائے گی، جو کسی بھی ترقی یافتہ معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔