اونٹاریو میں بے گھر افراد کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی، نئی رپورٹ میں تشویشناک انکشاف

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)اونٹاریو بھر میں بے گھری کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے اور ایک نئی رپورٹ کے مطابق یہ مسئلہ آئندہ برسوں میں مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ ایسوسی ایشن آف میونسپلٹیز آف اونٹاریو (AMO) کی جانب سے جاری کی گئی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2025 میں صوبے بھر میں اندازاً 85 ہزار سے زائد افراد کسی نہ کسی مرحلے پر بے گھر رہے، جبکہ تقریباً 2 ہزار خیمہ بستیاں (encampments) قائم ہو چکی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بے گھر افراد میں سے نصف سے زیادہ لوگ چھ ماہ یا اس سے زائد عرصے تک مسلسل بے گھری کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، تقریباً 20 ہزار بچے اور نوجوان بھی بے گھری سے متاثر ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ بے گھری میں اضافے کی بڑی وجہ شمالی اور دیہی علاقوں میں تیزی سے بڑھتا ہوا بحران ہے۔

AMO کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر لنڈسے جونز کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ نظام میں کہیں نہ کہیں بنیادی خرابی موجود ہے۔ ان کے مطابق، گزشتہ کئی برسوں سے سماجی نظاموں میں ناکافی سرمایہ کاری کی گئی، خاص طور پر آمدنی کے تحفظ، ذہنی صحت، منشیات کے علاج اور سستے مکانات جیسے شعبوں میں، جس کے اثرات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر معاشی حالات موجودہ سطح پر برقرار رہے تو 2035 تک بے گھر افراد کی تعداد بڑھ کر 1 لاکھ 77 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ جبکہ اگر معیشت کو شدید دھچکا لگا، جس کا خدشہ امریکہ کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی کے باعث ظاہر کیا جا رہا ہے، تو یہ تعداد تقریباً 3 لاکھ تک جا سکتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق، 2016 سے 2020 کے درمیان بے گھری میں 6.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ 2021 سے 2025 کے دوران اس میں 49.1 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ رہائش اور بے گھری سے نمٹنے کے لیے فنڈنگ میں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ بڑھتے ہوئے مسئلے کے مقابلے میں ناکافی ثابت ہوئی ہے۔

شمالی اونٹاریو میں گزشتہ ایک سال کے دوران بے گھری میں 37 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ زیادہ تر دیہی علاقوں میں یہ شرح 31 فیصد رہی۔ 2021 کے بعد سے شمالی علاقوں میں بے گھری میں مجموعی طور پر 117 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ لنڈسے جونز کے مطابق، اس بحران میں مقامی (Indigenous) آبادی کی بے گھری ایک اہم عنصر ہے، جس میں رواں سال تقریباً 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ 2025 میں بے گھر مقامی افراد کی تعداد بڑھ کر 11 ہزار ہو گئی، جو 2021 میں 6,100 تھی۔

رپورٹ میں خیمہ بستیوں کے بدلتے ہوئے رجحان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، جہاں اب بڑی بستیوں کے بجائے چھوٹے گروہوں پر مشتمل خیمے نظر آ رہے ہیں۔ جونز کے مطابق، صوبائی سطح پر نافذ کیے گئے سخت اقدامات مسئلے کی جڑ کو حل کرنے کے بجائے صرف بے گھر افراد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے ہیں۔

اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ کا کہنا ہے کہ بے گھری کا حل لوگوں کو تربیت دے کر روزگار فراہم کرنے میں ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف معاشی ترقی کافی نہیں اور اس کے لیے جامع، شواہد پر مبنی حکمت عملی درکار ہے۔ گرین پارٹی کی نائب سربراہ آئسلن کلینسی نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماہرین اور بلدیاتی اداروں کی مسلسل اپیلوں کے باوجود حکومت نے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے۔

AMO کے محققین کا اندازہ ہے کہ بے گھری کے خاتمے کے لیے آئندہ 10 برسوں میں کم از کم 11 ارب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری درکار ہوگی، جس میں سستے کرائے کے مکانات، معاون رہائش، ہنگامی پناہ گاہوں اور ذہنی صحت و منشیات کے علاج کے نظام کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں