اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )غزہ ایک بار پھر خاک و خون میں نہایا ہوا ہے۔
جنگ بندی کے کاغذی وعدوں، عالمی مطالبات، اور سفارتی بیانات کے باوجود اسرائیلی فوج کے حملوں کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ تازہ ترین واقعے میں مزید 4 فلسطینی شہید کر دیے گئے، جب کہ عرب میڈیا کے مطابق 10 اکتوبر کے امن معاہدے کے بعد سے اسرائیل 500 سے زائد بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کر چکا ہے، جس میں 300 سے زیادہ فلسطینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ یہ اعداد و شمار کسی جنگی محاذ کے نہیں بلکہ ایک ایسے علاقے کے ہیں جسے عالمی برادری "جنگ بندی” کے تحت محفوظ تصور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ جنگ بندی آخر کس کے لیے ہے؟ فلسطینیوں کے لیے تو ہر دن ایک نئی قیامت لے کر آ رہا ہے۔ اسرائیلی حملوں سے نہ پناہ گزین کیمپ محفوظ ہیں، نہ امدادی مراکز، نہ عام شہریوں کی رہائش گاہیں۔اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی اُنروا نے واضح طور پر اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں انسانی صورتِ حال جنگ بندی کے باوجود بھی تباہ کن ہے۔ 90 فیصد سے زائد آبادی امداد کی محتاج ہو چکی ہے اور لاکھوں لوگ 24 گھنٹوں میں صرف ایک بار کھانا حاصل کر پاتے ہیں۔ یہ حالات جنگ بندی نہیں، انسانیت کی اجتماعی شکست کی علامت ہیں۔
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ امریکا کی حمایت یافتہ متنازع تنظیم غزہ ہیومنٹیرین فاؤنڈیشن نے سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنا آپریشن روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ وہ تنظیم ہے جس کے مراکز پر امداد کی تقسیم کے دوران اسرائیلی حملوں نے سیکڑوں فلسطینیوں کی جان لے لی ۔ امدادی سرگرمیوں کا رک جانا غزہ کے پہلے سے کمزور انسانی ڈھانچے کو مزید دھچکا پہنچائے گا۔
المیہ یہ نہیں کہ اسرائیل جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے؛ المیہ یہ ہے کہ دنیا اسے روکنے میں ناکام ہے یا شاید روکنا چاہتی ہی نہیں۔ عالمی طاقتوں کی منافقانہ سیاست نے فلسطینیوں کے خون کو سفارتی میزوں پر ایک بے وزن حقیقت بنا دیا ہے۔ انسانی حقوق کے علمبردار ممالک اپنی اس خاموشی سے تاریخ کے سامنے مجرم بن رہے ہیں۔
بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، جنگ بندی معاہدہ کھلے عام پامال ہو رہا ہے، اور عالمی ادارے صرف تشویش کے بیانات جاری کر رہے ہیں۔ غزہ کی گرتی ہوئی عمارتیں، بھوک سے بلکتے بچے، اور اپنی جانیں بچانے کو بھاگتے خاندان اس "تشویش” سے زندہ نہیں رہ سکتے۔دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ غزہ میں جاری یہ بربریت کسی خطّے کا مسئلہ نہیں، یہ انسانیت کا مسئلہ ہے۔ اگر آج غزہ کے بے گناہوں کے قاتلوں کو روکا نہ گیا تو کل کوئی اور خطہ اسی آگ میں جھلسے گا۔فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے بیانات کافی نہیں—اب عالمی طاقتوں کو اپنے رویے بدلنے ہوں گے، ورنہ تاریخ ان کے کردار کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔