اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) عالمی سیاست ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے اور اس کروٹ کے مرکز میں اسلامی دنیا کے تین اہم ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ آ کھڑے ہوئے ہیں۔
ترکیہ کی جانب سے پاک سعودی دفاعی اتحاد میں شمولیت کے اظہار نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی چونکا دیا ہے۔ یہ محض ایک عسکری تعاون کی بات نہیں بلکہ ایک ایسے اسٹریٹجک بلاک کی تشکیل کا امکان ہے جو طاقت کے عالمی توازن کو متاثر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
گزشتہ برس پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا دفاعی معاہدہ پہلے ہی غیر معمولی اہمیت کا حامل تھا۔ اس معاہدے کی سب سے نمایاں شق یہ ہے کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق نیٹو کے مشہور آرٹیکل فائیو سے مماثلت رکھتی ہے، جسے دنیا کا سب سے مضبوط اجتماعی دفاعی اصول سمجھا جاتا ہے۔ اب اگر ترکیہ جیسے عسکری، صنعتی اور سفارتی طور پر مضبوط ملک کی اس اتحاد میں شمولیت ہوتی ہے تو یہ محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک نئے جغرافیائی سیاسی باب کا آغاز ہوگا۔
ترکیہ کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ملک نہ صرف نیٹو کا رکن ہے بلکہ اپنی آزاد خارجہ پالیسی، جدید دفاعی صنعت اور خطے میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی، میزائل پروگرام اور جدید عسکری حکمت عملی میں ترکیہ نے حالیہ برسوں میں دنیا کو حیران کیا ہے۔ اگر یہ صلاحیتیں پاکستان کی ایٹمی طاقت اور عسکری تجربے، اور سعودی عرب کی مالی قوت اور اسٹریٹجک جغرافیہ کے ساتھ جڑ جاتی ہیں تو یہ اتحاد ایک ناقابلِ نظرانداز حقیقت بن جائے گا۔
یہ سوال اہم ہے کہ ترکیہ اس اتحاد میں شامل کیوں ہونا چاہتا ہے؟ اس کا ایک جواب خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں پوشیدہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ عدم استحکام، جنگوں، پراکسی تنازعات اور عالمی طاقتوں کی مداخلت کا شکار رہا ہے۔ ترکیہ، جو خود کو صرف یورپ یا مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رکھتا، اب مسلم دنیا میں قیادت کا کردار ادا کرنے کا خواہاں نظر آتا ہے۔ پاک سعودی دفاعی اتحاد میں شمولیت ترکیہ کو ایک وسیع اسلامی دفاعی بلاک کا حصہ بنا سکتی ہے، جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کے عین مطابق ہے۔
پاکستان کے لیے یہ پیش رفت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک طرف بھارت کے ساتھ مسلسل کشیدگی، دوسری طرف افغانستان اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال—ان تمام عوامل کے تناظر میں ایک مضبوط دفاعی اتحاد پاکستان کی پوزیشن کو مزید مستحکم کر سکتا ہے۔ ترکیہ پہلے ہی پاکستان کے قریبی دفاعی شراکت داروں میں شامل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں، دفاعی معاہدے اور سفارتی ہم آہنگی کوئی نئی بات نہیں۔ اس ممکنہ سہ فریقی اتحاد سے پاکستان کو نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی سطح پر بھی تقویت ملے گی۔
سعودی عرب کے لیے بھی یہ اتحاد ایک اسٹریٹجک تحفظ کی ضمانت بن سکتا ہے۔ خطے میں ایران کے ساتھ کشیدگی، یمن کی جنگ اور دیگر سیکیورٹی خدشات کے باعث ریاض کو ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد دفاعی فریم ورک کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور ترکیہ جیسے ممالک کی شمولیت سعودی عرب کو یہ پیغام دینے کا موقع دے گی کہ وہ تنہا نہیں بلکہ ایک وسیع تر اتحاد کا حصہ ہے۔
تاہم اس ممکنہ اتحاد کے عالمی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکا، یورپی یونین، روس اور چین سب اس پیش رفت کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ امریکا کے لیے یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ آیا یہ اتحاد نیٹو کے متوازی کوئی نیا بلاک تو نہیں بن رہا؟ روس اور چین کے لیے یہ اتحاد ایک نئے طاقت کے محور کی صورت اختیار کر سکتا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود دیگر ممالک کے لیے یہ باعثِ تشویش بھی ہو سکتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے اتحاد ہمیشہ آزمائشوں سے گزرتے ہیں۔ مختلف ممالک کے اپنے قومی مفادات، علاقائی ترجیحات اور سفارتی دباؤ ہوتے ہیں۔ پاک، سعودی اور ترکیہ اتحاد کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ ممالک صرف دفاعی تعاون تک محدود رہتے ہیں یا اسے سیاسی اور معاشی اتحاد میں بھی ڈھالتے ہیں۔ اگر یہ اتحاد محض کاغذی ثابت ہوا تو اس کی اہمیت کم ہو جائے گی، لیکن اگر عملی اقدامات کیے گئے تو یہ اسلامی دنیا کے لیے ایک نئی سمت متعین کر سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ترکیہ کی جانب سے پاک سعودی دفاعی اتحاد میں شمولیت کی خواہش محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ عالمی سیاست میں ایک ممکنہ زلزلے کا پیش خیمہ ہے۔ یہ اتحاد اگر حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا اور یورپ تک اس کے اثرات محسوس کیے جائیں گے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ اتحاد دنیا کو کیسے بدلے گا، اصل سوال یہ ہے کہ دنیا اس تبدیلی کے لیے کتنی تیار ہے؟