اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)وزیرِاعظم پاکستان Shehbaz Sharif نے حالیہ جنگ بندی کے اعلان پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے وفود کو دس اپریل کو اسلام آباد آنے کی دعوت دے دی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں فریقین نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ لبنان اور دیگر علاقوں میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
وزیرِاعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ انتہائی عاجزی کے ساتھ اس پیش رفت کا اعلان کر رہے ہیں اور اس مثبت قدم کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کی قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ اقدام خطے میں امن و استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام تنازعات کے حل اور ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید بات چیت ناگزیر ہے، اسی مقصد کے تحت دس اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے دونوں فریقین کے وفود کو مدعو کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ قیادت نے غیر معمولی دانشمندی اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، جو قابلِ ستائش ہے۔
وزیرِاعظم نے امید ظاہر کی کہ مجوزہ “اسلام آباد مذاکرات” دیرپا امن کے قیام میں اہم کردار ادا کریں گے۔ ان کے مطابق یہ موقع ہے کہ تمام فریقین سنجیدگی سے بات چیت کے ذریعے اختلافات کو ختم کریں اور ایک محفوظ و مستحکم مستقبل کی بنیاد رکھیں۔
واضح رہے کہ وزیرِاعظم نے اس سے قبل امریکہ کے صدر سے درخواست کی تھی کہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے دی گئی مدت میں دو ہفتوں کی توسیع کی جائے تاکہ سفارتی کوششوں کو موقع مل سکے۔ اسی طرح ایران سے بھی آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھلا رکھنے کی اپیل کی گئی تھی، جس پر دونوں فریقین نے آمادگی ظاہر کی ہے۔
سیاسی و سفارتی حلقوں کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کی ایک مثبت مثال بن سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر بھی امن کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔