کنزرویٹو حکمران جماعت کے نو ایم ایل ایز کو عوام نے ہٹانے کا مطالبہ کر دیا، صوبائی حکومت ہل کر رہ گئی

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)پریمیئر ڈینیئل اسمتھ کی یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی (UCP) کے نو ارکان اب ریکال مہمات کا سامنا کر رہے ہیں اتنی تعداد جو ممکنہ طور پر قانون ساز اسمبلی میں حکومت کی اکثریت کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

الیکشنز البرٹا نے پیر کو تصدیق کی کہ مزید چھ UCP ارکان کے لیے دستخط جمع کرنے کی درخواستیں منظور کر لی گئی ہیں، جن میں کابینہ کے وزراء راجن ساہنی، مائلز میکڈوگال، ڈیل نالی اور آر جے سگورڈسن شامل ہیں۔ اسپیکر رک میکوئیر اور ملٹی کلچرل ازم کے ایسوسی ایٹ منسٹر محمد یاسین کے خلاف بھی پٹیشنز جاری کر دی گئی ہیں۔

اس سے قبل وزیرِ تعلیم ڈیمیٹریوس نیکولائیڈیز، رکنِ اسمبلی نولن ڈائیک اور ڈپٹی اسپیکر اینجلا پٹ کے خلاف بھی ریکال کی درخواستیں منظور ہو چکی ہیں نیکولائیڈیز پر الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری تعلیم کی مناسب حمایت نہیں کی، جبکہ ڈائیک اور پٹ کے خلاف درخواست دینے والوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ عوامی مسائل سننے اور برادری کے معاملات حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

یہ نووں ارکان صوبے کے مختلف حصوں کی نمائندگی کرتے ہیں—شمالی گرینڈ پریری سے لے کر جنوبی ہائی ووڈ تک۔ ان میں سے پانچ کا تعلق کیلگری کے علاقے سے ہے۔

اگرچہ درخواستوں کی وجوہات مختلف ہیں، لیکن بہت سے افراد نے اس بات پر غصہ ظاہر کیا کہ حکومت نے گزشتہ ماہ صوبے بھر میں جاری اساتذہ کی ہڑتال ختم کرنے کے لیے آئین کے "ناتھنگ اسٹینڈنگ کلاز” کا استعمال کیا۔

کیلگری کی ایک معلمہ میلیسا کریگ، جو وزیرِ تعلقاتِ برائے مقامی اقوام راجن ساہنی کے خلاف ریکال مہم چلا رہی ہیں، کہتی ہیں کہ حکومت کے فیصلے نے انہیں مایوس ضرور کیا مگر اس نے انہیں اقدام اٹھانے پر مجبور بھی کیا۔

ان کے مطابق، "میں اس سب کو یوں ہی نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ مجھے کچھ نہ کچھ کرنا تھا اور بیانیہ تبدیل کرنے کی کوشش کرنی تھی۔کئی درخواست گزاروں نے اپنے ارکان پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ عوامی مسائل سننے یا ووٹرز سے براہِ راست رابطہ رکھنے میں ناکام ہیں۔

سیوبہان ککسلی نے اپنی درخواست میں لکھا کہ وزیرِ مملکت محمد یاسین نے بارہا رابطے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کے مطابق، "ان کا رویہ جواب دہی کے فقدان اور اپنے ووٹرز سے عدم وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔”

اسمتھ اور ان کی جماعت کا کہنا ہے کہ ریکال کا طریقہ کار اصل مقصد کے برعکس استعمال ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق شکایات بدانتظامی کے بجائے پالیسی اختلافات پر مبنی ہیں، جبکہ ریکال کا مقصد سنگین بدعنوانی جیسے معاملات تھے۔

زرعی امور کے وزیر آر جے سگورڈسن نے بھی یہی مؤقف دہرایا۔ انہوں نے کہا، "یہ لوگ ریکال کو ہتھیار بنا رہے ہیں کیونکہ انہیں حکومت کی پالیسی پسند نہیں۔ ریکال کبھی اس مقصد کے لیے نہیں تھا۔

سروس البرٹا کے وزیر ڈیل نالی نے اپنی درخواست کے جواب میں مؤقف اپنایا کہ ان کے خلاف مہم ایک سرگرم گروہ کی جانب سے قبل از وقت انتخابات کرانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پٹیشن جمع کرانے والا شخص 2023 کے انتخابات میں ووٹ بھی نہیں ڈالا۔

تاہم پٹیشن چلانے والے جوشوا ایبرہارٹ نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ ان کے ووٹ نہ دینے کا دعویٰ قابلِ حیرت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاہے انہوں نے ووٹ دیا یا نہیں، اس کا پٹیشن کی قانونی حیثیت سے کوئی تعلق نہیں۔

ایبرہارٹ نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی گروہ کے ایجنٹ نہیں بلکہ صرف ایک فکر مند شہری ہیں۔ ان کا کہنا تھا، "میں صرف ایک عام آدمی ہوں۔ بحیثیت ٹیکس دہندہ، میں تعلیم اور صحت کو بہت اہمیت دیتا ہوں، اور محسوس کرتا ہوں کہ موجودہ حکومت—بشمول میرے نمائندے—ان کا مناسب خیال نہیں رکھ رہی۔اسمبلی کے اندر پیر کو نالی نے میڈیا کے سوالات پر سخت ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ وہ "کسی خاص بات پر تبصرہ نہیں کریں گے۔

ریکال قوانین کے تحت ہر مہم کو تین ماہ کے اندر اپنے حلقے سے مطلوبہ تعداد میں دستخط جمع کرنا ہوتے ہیں۔ دستخط پورے ہو جائیں تو یہ فیصلہ کرنے کے لیے ووٹ ہوتا ہے کہ رکن اپنی نشست برقرار رکھ سکتا ہے یا نہیں۔

اگر نووں ارکان اپنے حلقوں میں شکست کھا جاتے ہیں تو UCP حکومت کی اکثریت ختم ہو جائے گی۔ موجودہ 87 رکنی ایوان میں UCP کے پاس 47 نشستیں ہیں، اپوزیشن NDP کے پاس 38، جبکہ دو سابق UCP ارکان آزاد حیثیت میں بیٹھے ہیں۔

پریمیئر اسمتھ کا کہنا ہے کہ وہ ریکال ایکٹ میں تبدیلیوں پر غور کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق، اس قانون کا  نیچے سے اوپر  والا مقصد غلط استعمال ہو رہا ہے، خاص طور پر آن لائن فنڈنگ اور ممکنہ بیرونی مداخلت کے خدشات کے باعث۔ یہ قانون سابق وزیرِاعلیٰ جیسن کینی کے دور میں متعارف کرایا گیا تھا۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں