اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)تحریک انصاف کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے آج سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقات کا فیصلہ کر لیا ہے، جسے ملکی سیاسی صورتحال میں ممکنہ پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس فیصلے سے قبل اسلام آباد میں پی ٹی آئی کی قیادت کا ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت بیرسٹر گوہر نے کی۔ اجلاس میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں سلمان اکرم راجہ، سابق سپیکر اسد قیصر، جنید اکبر اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی سے متوقع ملاقات کے دوران پی ٹی آئی وفد کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو باضابطہ طور پر اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کے نوٹیفکیشن کے اجراء کا مطالبہ کیا جائے گا۔ پارٹی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی تقرری پارلیمانی نظام کی فعالیت کے لیے ناگزیر ہے اور اس میں مزید تاخیر سے سیاسی عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔
سیاسی منظرنامے میں اس پیش رفت کو اس لیے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے معاملے پر سپیکر قومی اسمبلی کو گرین سگنل دے دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق سپیکر کی درخواست پر حکومت مذاکرات کے لیے آمادگی رکھتی ہے، تاہم یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ بات چیت صرف تحریک انصاف کے منتخب نمائندوں سے کی جائے گی اور غیر منتخب افراد کو مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
دوسری جانب سپیکر آفس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تاحال تحریک انصاف کی جانب سے مذاکرات کے لیے باضابطہ رابطہ نہیں کیا گیا۔ سردار ایاز صادق نے پارلیمانی کمیٹی بدستور برقرار رکھی ہوئی ہے اور اگر اپوزیشن آمادگی ظاہر کرتی ہے تو فوری طور پر اس کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جا سکتا ہے۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی نے تحریک انصاف کو اپنے چیمبر میں ملاقات کی دعوت دے رکھی ہے، تاہم اس پیشکش کے باوجود ابھی تک اپوزیشن کی جانب سے عملی رابطہ سامنے نہیں آیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر یہ ملاقات عمل میں آتی ہے تو یہ نہ صرف اپوزیشن لیڈر کے معاملے کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعطل کے شکار مذاکراتی عمل کو بھی آگے بڑھا سکتی ہے۔