اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) نیو لٹریسی پراجیکٹ کی تازہ ترین رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2024 کے صدارتی انتخابات میں سوشل میڈیا پر جعلی دعوؤں کے علاوہ صدارتی امیدواروں کے لیے مشہور شخصیات اور معروف شخصیات کی حمایت کی جعلی پوسٹس بھی بکثرت ہو گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق، نیوز لٹریسی پروجیکٹ کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا بیس سے پتہ چلتا ہے کہ تنظیم کی جانب سے جعلی تائیدات پر مبنی ہر 10 میں سے ایک وائرل پوسٹ کا تجزیہ کیا گیا، جس میں حالیہ صدارتی انتخابات سے قبل مہم کے دوران تقریباً 550 مسز بھی شامل ہیں۔
معلومات کے انوکھے کیس سامنے آئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایسے جعلی توثیق کے دعووں کی تازہ ترین مثال ڈونلڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر سامنے آئی جہاں انہوں نے AI سے تیار کردہ ایک پوسٹ شیئر کی جس میں ٹیلر سوئفٹ کے مداحوں کا ہجوم دکھایا گیا تھا۔ جو خود کو ‘Swifties for Term’ کہہ رہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی پاپ گلوکار کی حمایت سے متعلق اس پوسٹ پر ‘میں قبول کرتا ہوں لکھا اور اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر کے کولیج میں ٹیلر سوئفٹ کو ‘انکل سیم کی شرٹ پہنے ہوئے دکھایا گیا، لیکن وہ تصویر بھی جعلی نکلی، جب کہ ایک اور تصویر، جو اصلی معلوم ہوتی ہے، میں دکھایا گیا ہے کہ ایک نوجوان خاتون نے وہ شرٹ پہن رکھی ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں امریکی گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ نے ٹرمپ کو اپنی انتظامیہ کے دوران ‘سفید نسل پرستی کی آگ بھڑکانے کا ذمہ دار قرار دیا تھا، جب کہ 2020 کے انتخابات میں بھی انھوں نے جو بائیڈن کی حمایت کا اعلان کیا تھا، تاہم اب تک انھوں نے جو بائیڈن کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
کسی صدارتی امیدوار کی حمایت نہیں کی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی ایسی پوسٹیں نیشنل فٹ بال لیگ (NFL) کے ستاروں ایرون راجرز، مورگن فری مین، موسیقار بروس اسپرنگٹن اور دیگر شوبز شخصیات اور مشیل اوباما جیسی سیاسی شخصیات کی جعلی توثیق کرتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ صرف ان چار شخصیات سے منسوب جعلی پوسٹس کو 10 ملین سے زیادہ ویوز مل چکے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ نہ تو ٹیلر سوئفٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کی، نہ ریان رینالڈز نے کملا ہیرس کے نام کی شرٹ پہنی اور نہ ہی کمیونسٹ پارٹی آف امریکہ نے کبھی جو بائیڈن کی انتخابی مہم کی حمایت کی۔