اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)امریکی حکام کے مطابق جمعرات کے روز ریاست اوریگون کے شہر پورٹ لینڈ میں ایک ہسپتال کے باہر وفاقی امیگریشن اہلکاروں کی فائرنگ سے ایک گاڑی میں سوار دو افراد زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک دن قبل مینیسوٹا میں ایک امیگریشن افسر کی فائرنگ سے ایک ڈرائیور ہلاک ہو چکا تھا، جس کے بعد وفاقی اداروں کی کارروائیوں پر مزید سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ایک تحریری بیان میں دعویٰ کیا کہ گاڑی میں موجود ایک مسافر وینزویلا کا غیر قانونی شہری تھا، جس کا تعلق مبینہ طور پر بین الاقوامی جرائم پیشہ گروہ ٹرین دے اراگوا سے ہے اور وہ حالیہ فائرنگ کے ایک واقعے میں ملوث رہا ہے۔ حکام کے مطابق جب وفاقی ایجنٹس نے جمعرات کی دوپہر ایک “ٹارگٹڈ وہیکل اسٹاپ” کے دوران اپنی شناخت ظاہر کی تو ڈرائیور نے مبینہ طور پر اہلکاروں کو کچلنے کی کوشش کی۔
بیان میں کہا گیااپنی جان اور سلامتی کو خطرے میں دیکھتے ہوئے ایک ایجنٹ نے دفاعی فائر کیا،جس کے بعد ڈرائیور زخمی مسافر کے ساتھ موقع سے فرار ہو گیا۔
تاہم اس سرکاری مؤقف کی فوری طور پر کوئی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، نہ ہی گاڑی میں سوار افراد کے کسی گینگ سے تعلق کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ماضی میں بھی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے تحت ہونے والی فائرنگ کے واقعات میں، ویڈیو شواہد نے حکومتی بیانیے پر سوالات اٹھائے تھے۔
پورٹ لینڈ پولیس کے مطابق، جمعرات کی سہ پہر تقریباً 2:18 بجے ایڈونٹسٹ ہیلتھ اسپتال کے باہر فائرنگ کی اطلاع پر پولیس پہنچی۔ کچھ ہی دیر بعد ایک اور اطلاع ملی کہ ایک زخمی شخص قریبی رہائشی علاقے میں مدد مانگ رہا ہے۔ پولیس وہاں پہنچی تو ایک مرد اور ایک خاتون کو گولی لگنے کے زخموں کے ساتھ پایا گیا، جن کے بارے میں تصدیق کی گئی کہ وہ وفاقی اہلکاروں کی فائرنگ سے زخمی ہوئے تھے۔
زخمیوں کی حالت فوری طور پر واضح نہیں ہو سکی، تاہم پولیس نے بتایا کہ ایک زخمی کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ پورٹ لینڈ سٹی کونسل کی صدر ایلینا پرٹل-گینی نے کہا کہ دونوں افراد تاحال زندہ ہیں اور مثبت پیش رفت کی امید کی جا رہی ہے۔
بعد ازاں ایک پریس کانفرنس میں پورٹ لینڈ پولیس چیف باب ڈے نے بتایا کہ اس واقعے کی تحقیقات ایف بی آئی کر رہی ہے اور مقامی پولیس کے پاس فائرنگ سے قبل پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔
دوسری جانب، پورٹ لینڈ کے میئر کیتھ ولسن اور سٹی کونسل نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ مکمل تحقیقات مکمل ہونے تک شہر میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی تمام کارروائیاں فوری طور پر روک دی جائیں۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ
“ہم آئینی حقوق کی پامالی اور بڑھتے ہوئے خونریزی کے واقعات پر خاموش نہیں رہ سکتے۔”
میئر ولسن نے وفاقی حکومت کے مؤقف پر بھی شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہاایک وقت تھا جب ہم ان کی بات پر یقین کر سکتے تھے، وہ وقت اب گزر چکا ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے شہر میں تناؤ کو مزید بڑھا رہا ہے جو طویل عرصے سے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا ناقد رہا ہے، اور جہاں امیگریشن چھاپوں کے خلاف ماضی میں مسلسل احتجاج بھی ہوتے رہے ہیں۔ حکام اور عوامی نمائندوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس نازک صورتحال میں پُرامن اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔