اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) سری لنکا کرکٹ نے پاکستان سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کر دی ہے
خبردار کیا گیا ہے کہ میچ منسوخ ہونے کی صورت میں میزبان ملک کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سری لنکن کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو باضابطہ خط ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاک بھارت مقابلہ ٹورنامنٹ کے سب سے بڑے اور منافع بخش میچز میں شمار ہوتا ہے، اور اس کی منسوخی سے نہ صرف براڈکاسٹنگ ریونیو متاثر ہوگا بلکہ سیاحت سے متوقع آمدن بھی کم ہو جائے گی۔
سری لنکا کرکٹ کا مؤقف ہے کہ یہ ہائی پروفائل میچ تجارتی لحاظ سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے پی سی بی دونوں بورڈز کے دیرینہ تعلقات، موجودہ غیر معمولی حالات اور کرکٹ کے وسیع تر مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرے۔یہ صورتحال حکومت پاکستان کے اس فیصلے کے بعد پیدا ہوئی ہے جس کے تحت قومی ٹیم کو بھارت کے خلاف کھیلنے سے روک دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے حالیہ خطاب میں حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت سے نہ کھیلنے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر اور قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے معاملے کو حل کرنے کیلئے پسِ پردہ رابطے شروع کر دیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق آئی سی سی کے نائب چیئرمین عمران خواجہ کو پی سی بی کے ساتھ بات چیت اور ممکنہ ثالثی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ ٹورنامنٹ کو کسی بڑے تنازع سے بچایا جا سکے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پاک بھارت میچ منسوخ ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف مالی معاملات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ورلڈکپ کی مقبولیت اور شائقین کی دلچسپی بھی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ دونوں ٹیموں کا مقابلہ عالمی کرکٹ کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مقابلوں میں شمار ہوتا ہے۔