اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما شبلی فراز کی خالی نشست پر سینیٹ الیکشن روکنے کی استدعا مسترد کر دی۔ عدالتِ عظمیٰ نے شبلی فراز کی اپیل پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ عدالتِ عالیہ ان کی زیرِ التوا درخواست پر فریقین کو سن کر فیصلہ کرے۔
منگل کو سپریم کورٹ کے تین رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کی جانب سے کیس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا اور کہا کہ معاملے کو تاخیر کے بغیر نمٹایا جائے۔
عدالت نے واضح کیا کہ وہ سینیٹ کے انتخابات کے عمل میں مداخلت نہیں کرے گی۔ سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر گوہر سے استفسار کیا کہ جب پارٹی نے سینیٹ الیکشن کے لیے امیدوار نامزد کر دیا ہے تو پھر حکمِ امتناع کیوں مانگا جا رہا ہے؟
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ صرف ایک نشست پر انتخاب ہو رہا ہے اور الیکشن کمیشن نے انہیں “بے آبرو طریقے سے” انتخابی عمل سے خارج کر دیا ہے، اس لیے عدالت سے استدعا ہے کہ الیکشن روک دیا جائے۔ تاہم بینچ نے ان کی یہ درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پشاور ہائیکورٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شبلی فراز کی زیرِ التوا درخواست پر جلد سماعت کرے اور تمام فریقین کو سننے کے بعد فیصلہ سنائے۔
یاد رہے کہ 5 اگست 2025 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف شبلی فراز، قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور دیگر سات ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ مذکورہ ارکان کو 9 مئی 2023 کے فسادات سے متعلق مقدمات میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں، لہٰذا وہ عوامی عہدے کے لیے اہل نہیں رہے۔
نااہل قرار دیے گئے افراد میں سینیٹر شبلی فراز، عمر ایوب، زرتاج گل، حامد رضا، رائے حیدر، رائے حسن، رائے مرتضیٰ، انصر اقبال اور جنید افضل شامل تھے۔
یاد رہے کہ فیصل آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے تین مقدمات میں شبلی فراز، عمر ایوب اور زرتاج گل سمیت تحریکِ انصاف کے 196 رہنماؤں اور کارکنوں کو 10 سال تک قید کی سزائیں سنائی تھیں۔
یہ واقعات اُس وقت پیش آئے جب عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا گیا، جس کے بعد ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ لاہور میں جناح ہاؤس (کور کمانڈر کی رہائش گاہ) سمیت متعدد فوجی و سرکاری تنصیبات پر حملے ہوئے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچا، اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
حکام کے مطابق ان فسادات میں ملوث تقریباً 1900 افراد کو گرفتار کیا گیا، جب کہ عمران خان اور کئی پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف بھی متعدد مقدمات درج کیے گئے۔