اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وفاقی آئینی عدالت نے سوات سے رکن قومی اسمبلی سہیل سلطان کے خلاف الیکشن کمیشن کی جانب سے چلائی جانے والی نااہلی کی کارروائی کو تاحکم ثانی روک دیا ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرتے ہوئے الیکشن کمیشن اور دیگر فریقین کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔
یہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سنایا۔ کیس کی سماعت کے دوران سہیل سلطان کی نمائندگی کرنے والے بیرسٹر گوہر نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ اسپیکر کو ریفرنس بھیجنے کا اختیار نہیں تھا اور نااہلی کے معاملے میں آرٹیکل 199 کے تحت رٹ انتخابات کے بعد ہی دائر کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصول سپریم کورٹ کے نواز شریف کیس میں بھی واضح ہو چکا ہے۔
عدالت نے اپیل کو ابتدائی سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کیے۔ سہیل سلطان پر الزام تھا کہ انہوں نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ کے طور پر دو سال کی پابندی پوری کیے بغیر انتخابات میں حصہ لیا، جو کہ قانونی طور پر غیر قانونی ہے۔ ان کے وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ یہ پابندی ختم ہونے سے پہلے انتخابی عمل میں حصہ لینا ممنوع نہیں تھا اور کیس کے قانونی پہلو مزید تفصیل سے زیر غور لائے جائیں۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے اس معاملے کی سماعت منگل کے دن کے لیے مقرر کی تھی، تاہم وفاقی آئینی عدالت کی کارروائی کے باعث یہ کارروائی روک دی گئی ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ آئندہ انتخابات اور نااہلی کے مقدمات کے حوالے سے ایک اہم قانونی نقطہ حیثیت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آئینی عدالت کا اختیار الیکشن کمیشن کی کارروائی پر بالادستی رکھتا ہے اور نااہلی کے معاملات میں قانونی پروسیجر کی درستگی لازمی ہے۔
سہیل سلطان کے خلاف کیس آئندہ سماعت پر دوبارہ زیر غور آئے گا، جس سے یہ واضح ہو جائے گا کہ آئینی تقاضوں اور انتخابی قواعد کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے گا۔