اردو ورلڈ کینیڈا (ویب نیوز )امریکی باسکٹ بال کھلاڑی مو بامبا نے ٹورنٹو ریپٹرز کے ساتھ اپنے کیریئر کے ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔
بامبا کا کہنا ہے کہ وہ ریپٹرز کے لاکر روم میں خود کو بخوبی فٹ محسوس کرتے ہیں، تاہم اب ان کے لیے اصل چیلنج میدان میں اپنی مستقل جگہ بنانا ہے۔سات فٹ قد کے سینٹر مو بامبا نے اتوار کو ٹورنٹو ریپٹرز کے ساتھ معاہدہ کیا اور اس کے اگلے ہی دن اورلینڈو میجک کے خلاف 107-106 کی سنسنی خیز جیت میں اپنی نئی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے صرف چار منٹ میدان میں گزارے۔بامبا ابھی تک اپنی نئی ٹیم کے ماحول سے ہم آہنگ ہونے کے مرحلے میں ہیں۔ ٹورنٹو پہنچنے کے صرف 24 گھنٹے بعد، جب وہ اپنی چھٹی این بی اے ٹیم میں شامل ہوئے، ان کا سامان راستے میں گم ہو گیا تھا۔ تاہم ان کے مطابق اصل مشکل سامان نہیں بلکہ ٹیم کی مخصوص اصطلاحات کو سمجھنا تھا۔
مو بامبا نے اسکاٹیا بینک ایرینا میں اپنے نئے لاکر کے سامنے بیٹھے ہوئے کہا کہ“اگرچہ زیادہ تر ٹیمیں ایک جیسا کھیل کھیلتی ہیں، لیکن ہر ٹیم کی اپنی الگ اصطلاحات ہوتی ہیں۔ یہاں جو چیز ‘ڈاؤن’ کہلاتی ہے، وہ کسی اور ٹیم میں ‘آئس’ ہو سکتی ہے، یا پک اینڈ رول پر بائیں طرف کی ایک کال یہاں ‘کمزور’ کہلاتی ہے جو کہیں اور ‘طاقتور’ سمجھی جاتی ہے۔”انہوں نے مزید کہاکہ“کھیل بنیادی طور پر ایک ہی ہوتا ہے، صرف الفاظ بدل جاتے ہیں۔ جب آپ لیگ میں کافی وقت گزار لیتے ہیں تو ان باتوں کی سمجھ خود بخود آ جاتی ہے۔”مو بامبا کو 2018 کے این بی اے ڈرافٹ میں اورلینڈو میجک نے چھٹے نمبر پر منتخب کیا تھا، تاہم وہ اورلینڈو، لاس اینجلس لیکرز، فلاڈیلفیا، لاس اینجلس کلپرز اور نیو اورلینز کے ساتھ سات سیزن گزارنے کے باوجود کسی ایک ٹیم میں مستقل جگہ نہ بنا سکے۔ انہوں نے اب تک 364 این بی اے میچز میں اوسطاً 6.8 پوائنٹس، 5.4 ریباؤنڈز، 1.3 بلاکس اور 16.8 منٹ فی میچ کھیلنے کا ریکارڈ بنایا ہے، جن میں 101 میچز بطور ابتدائی کھلاڑی شامل ہیں۔
موجودہ سیزن میں بامبا نے یوٹا جاز کی جی لیگ ٹیم سالٹ لیک سٹی اسٹارز کے لیے 14 میچز کھیلے، جہاں ان کی کارکردگی شاندار رہی۔ انہوں نے اوسطاً 16.5 پوائنٹس، 12.3 ریباؤنڈز، 1.5 اسسٹ، 2.9 بلاکس اور 28.7 منٹ فی میچ کھیل کر اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔اس حوالے سے مو بامبا نے کہا“یہ تجربہ آپ کو یاد دلاتا ہے کہ اس کھیل میں جگہ بنانا کتنا مشکل ہے، اور یہ کہ این بی اے میں شامل 450 کھلاڑی کتنے باصلاحیت ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ میں یہاں کھیلنے کا حق رکھتا ہوں۔”بامبا کے لیے ریپٹرز کا لاکر روم اجنبی نہیں، کیونکہ ٹیم میں کئی کھلاڑی پہلے سے ان کے جاننے والے ہیں۔
انہوں نے کہا“میں ٹیم کے تقریباً تمام کھلاڑیوں کو جانتا ہوں۔ آر جے بیریٹ نے مجھے یاد دلایا کہ وہ کالج کے زمانے میں اورلینڈو میں میرے گھر پر ٹھہر چکا ہے۔ سکاٹی بارنز کو میں کافی عرصے سے جانتا ہوں۔”اگرچہ کچھ کھلاڑیوں کے ساتھ بامبا نے اس سیزن میں پہلی بار کھیلا ہے، لیکن ان کی شہرت اور صلاحیتیں سب کے علم میں تھیں۔ بیک اپ گارڈ جمال شیڈ نے کہا“ہمیں مو کو دفاع اور حملے کے نظام میں تھوڑی مدد دینی ہوگی، لیکن اس کی مہارت اور توانائی ہماری ٹیم کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا “میں آسٹن سے ہوں اور میں نے اسے یونیورسٹی آف ٹیکساس میں کھیلتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کیا کر سکتا ہے، اور اس کے ساتھ کھیلنے کے لیے پُرجوش ہوں۔”ریپٹرز کو اس وقت مو بامبا کی قد و قامت اور دفاعی صلاحیتوں کی اشد ضرورت ہے، کیونکہ ان کے مرکزی سینٹر جیکب پوئٹل کم از کم ایک ہفتے کے لیے کمر کے نچلے حصے کی تکلیف کے باعث میدان سے باہر ہیں۔ اس دوران بامبا کو سینٹر کی پوزیشن پر سینڈرو ماموکلاشویلی، نو آموز کھلاڑی کولن مری بوائلز اور سکاٹی بارنز کے ساتھ وقت تقسیم کرنا ہوگا۔کولن مری بوائلز کا کہنا ہے کہ بامبا کی شاٹس روکنے کی صلاحیت ٹیم کے لیے انتہائی قیمتی ثابت ہو گی۔انہوں نے کہاکہ“ہم سب جانتے ہیں کہ ہمیں اس کی کتنی ضرورت تھی۔ جب جیکب پوئٹل باہر ہیں تو ہم چھوٹے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، اس لیے ایک مضبوط دفاعی سینٹر کا ہونا بہت ضروری تھا۔”ادھر بدھ کے روز ڈینور ناگٹس کی ٹورنٹو آمد سے قبل ریپٹرز کے سینٹرز کے لیے ایک مشکل امتحان متوقع تھا، تاہم ناگٹس کے اسٹار سینٹر نیکولا جوکچ پیر کو میامی ہیٹ کے خلاف میچ میں گھٹنے کی انجری کا شکار ہو گئے۔ ٹیم کے مطابق انہیں چار ہفتوں بعد دوبارہ معائنہ کے لیے بلایا جائے گا۔یہ انجری اگرچہ ناگٹس کے لیے بڑا دھچکا ہے، تاہم یہ نہ تو سیزن ختم کرنے والی چوٹ ہے اور نہ ہی اس کے لیے سرجری کی ضرورت ہو گی۔ اگر جوکچ ایک ماہ تک میدان سے باہر رہتے ہیں تو وہ تقریباً 16 میچز نہیں کھیل پائیں گے، تاہم فروری میں ہونے والے این بی اے آل اسٹار مقابلے سے قبل ان کی واپسی ممکن ہے۔