اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایکوئٹے ایسوسی ایشن کے نئے اعداد و شمار کے مطابق ٹویوٹا RAV4 ایک بار پھر کیوبیک میں سب سے زیادہ چوری ہونے والی گاڑی بن گئی ہے مسلسل دوسرے سال یہ گاڑی صوبے کی فہرست میں سرفہرست رہی۔
RAV4 نے ٹویوٹا ہائی لینڈر کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پورے کینیڈا میں بھی سب سے زیادہ چوری ہونے والی گاڑی کا درجہ حاصل کر لیا ہے، اور 2024 میں ملک بھر سے اس کے 2,000 سے زائد کیس رپورٹ ہوئے۔
کیوبیک میں صرف گزشتہ سال 921 RAV4 گاڑیاں چوری ہوئیں، جن میں سب سے زیادہ 2021 ماڈل کو نشانہ بنایا گیا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق اس گاڑی کی زیادہ ریسیل ویلیو، عالمی مارکیٹ میں مانگ اور آسان مرمت اسے منظم جرائم پیشہ گروہوں کے لیے خصوصی طور پر پرکشش بناتی ہے۔
تھوڑا اضافہ، لیکن جرائم کا خطرہ برقرار
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2024 میں گاڑیوں کی چوری کی شرح کینیڈا بھر میں 19 فیصد کم رہی۔ اس کمی کا کریڈٹ حکومتوں، پولیس اور بارڈر ایجنسیز کی جانب سے قومی ایکشن پلان کے تحت کیے گئے اقدامات کو دیا جا رہا ہے۔
اس کے باوجود انشورنس کلیمز کی مد میں ہونے والا نقصان اب بھی سالانہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
ایکوئٹے کا کہنا ہے کہ کیوبیک اور اونٹاریو میں صورتِ حال اب بھی تشویش ناک ہے، جہاں نئی SUVs اور کی لیس انٹری سسٹم والی گاڑیاں منظم گروہوں کا بڑا ہدف بنی ہوئی ہیں۔
لگژری گاڑیوں کی چوری میں نمایاں اضافہ
رپورٹ کے مطابق دو لاکھ ڈالر یا اس سے زیادہ مالیت والی لگژری گاڑیوں کی چوری میں پورے ملک میں 47.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ مجرم گروہ زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر رہے ہیں۔ ایک عہدیدار کے مطابق، "RAV4 کا فہرست میں سرفہرست آنا ظاہر کرتا ہے کہ منظم مجرم گروہ اپنی رفتار نہیں گھٹا رہے، بلکہ طریقہ کار تبدیل کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی معیارات سخت کرنے کا مطالبہ
ایکوئٹے نے ٹرانسپورٹ کینیڈا اور اس کے امریکی ہم منصب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گاڑیوں کی چوری روکنے کے لیے ULC 338 کے نئے معیار کو لازمی قرار دیں، جس سے آٹو میکرز اور صارفین کے لیے بھی وضاحت پیدا ہوگی۔
کیوبیک رینکنگ کیسے تیار کی گئی؟
سالانہ فہرست میں 2024 کے چوری کے ریکارڈ کی بنیاد پر گاڑیوں کی درجہ بندی کی گئی۔ ایک جیسے ماڈلز کو ایک گروپ میں رکھا گیا، خاص طور پر وہ جن میں چوری کے طریقے ایک جیسے پائے جاتے ہیں۔ایکوئٹے کے مطابق کیوبیک اور پورے کینیڈا میں RAV4 کی برتری اس رجحان کی نشاندہی کرتی ہے کہ کی لیس سسٹم والی نئی SUVs اب بھی منظم جرائم پیشہ گروہوں کا سب سے پہلا ہدف ہیں۔