اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)اتوار کے روز کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے وادی تیراہ کے علاقے بار قمبر خیل کو چھوڑنے پر مقامی عمائدین سے زبانی اصولی طور پر اتفاق کر لیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق عمائدین کے وفد نے ٹی ٹی پی کے کمانڈروں سے ملاقات کی اور 4 اگست کے تحریری معاہدے کی یاد دہانی کرائی، جس میں عسکریت پسندوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے گھروں کو سیکیورٹی فورسز پر حملوں یا کسی تخریبی سرگرمی کے لیے استعمال نہیں کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمائدین نے کمانڈروں کو بتایا کہ سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان لڑائی سے مقامی آبادی شدید متاثر ہو رہی ہے اور بعض مسلح گروہ اب بھی نجی گھروں میں موجود ہیں، جبکہ باشندوں کو زبردستی اپنے گھروں سے نکالا جا رہا ہے۔ فائرنگ کے تبادلے میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے اور نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
بار قمبر خیل کے جرگے نے ٹی ٹی پی کی بڑھتی ہوئی مسلح سرگرمیوں اور حملوں پر ناراضگی ظاہر کی اور انہیں واضح پیغام دیا کہ وہ 5 اگست کے امن معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹی ٹی پی کمانڈروں نے اتوار کو اصولی طور پر تمام نجی گھروں میں قائم ٹھکانوں کو خالی کرنے اور علاقے سے نکلنے پر اتفاق کیا۔ اس کے بعد مقامی عمائدین نے سیکیورٹی حکام کو بھی قائل کیا کہ کئی دنوں سے نافذ کرفیو ختم کیا جائے۔
اتوار کے روز قمبر خیل اور ملک دین خیل کے علاقوں میں کم از کم تین ڈرون حملوں میں ایک خاتون جاں بحق اور دو افراد زخمی ہوئے۔ زخمی ہونے والے افراد کی فوری شناخت نہیں ہو سکی کیونکہ حملے کے وقت گھر خالی تھا اور مکین پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل ہو چکے تھے۔
دوسری جانب، باڑہ پولیس نے اپنے ہی دو اہلکاروں کو ایک مقامی شخص کے اغوا میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا اور مغوی کو بازیاب کرایا۔ ڈی ایس پی سوا لزار خان کے مطابق پولیس نے خفیہ اطلاع پر باڑہ کے ایک ہوٹل پر چھاپہ مارا، جہاں مغوی جمشید خان کو دو اہلکار میر گل اور طیب خان کے ہمراہ پایا گیا۔ تیسرا اہلکار حیدر چھاپے سے قبل فرار ہو گیا۔ تینوں اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔