ایرانی مظاہرین پر تشدد،اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے دوران

مظاہرین کے خلاف تشدد اور طاقت کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران سے موصول ہونے والی اطلاعات نہایت تشویشناک ہیں، جن کے مطابق سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں اور کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک سے جاری بیان میں انتونیو گوتریس نے زور دیا کہ ہر ملک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزادیٔ اظہار، آزادیٔ اجتماع اور پُرامن احتجاج کا حق بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کا بنیادی حصہ ہے، اور کسی بھی صورت میں ان حقوق کو طاقت کے ذریعے دبانا قابلِ قبول نہیں۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مظاہرین کے خلاف تشدد اور طاقت کے بے جا استعمال کی رپورٹس نہ صرف تشویش ناک ہیں بلکہ یہ صورتحال ایران میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ضبط و تحمل کا مظاہرہ انتہائی ضروری ہے تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ انہوں نے ایرانی حکام پر زور دیا کہ وہ غیر ضروری طاقت کے استعمال سے گریز کریں اور حالات کو مذاکرات اور پُرامن ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کریں۔
انتونیو گوتریس نے خاص طور پر ایران میں مواصلاتی سہولیات کی بندش پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ اور دیگر ذرائع ابلاغ کی معطلی سے نہ صرف عوام کو معلومات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ شفافیت اور آزادانہ رپورٹنگ بھی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایران میں فوری طور پر مواصلاتی سہولیات بحال کی جائیں تاکہ عوام اور میڈیا کو درست معلومات تک رسائی حاصل ہو سکے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں، تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم ہو۔ انہوں نے عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
یاد رہے کہ ایران میں گزشتہ چند ہفتوں سے جاری احتجاجات کو 2022 کے بعد سب سے شدید مظاہرے قرار دیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں مظاہرین اور سکیورٹی اہلکار دونوں شامل ہیں، جبکہ ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ تاہم ایرانی حکومت کی جانب سے تاحال ہلاکتوں اور گرفتاریوں کے حوالے سے کوئی حتمی سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔

دوسری جانب، ایران کی حکومت کا مؤقف ہے کہ سکیورٹی فورسز نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور احتجاجات کے دوران تشدد کے واقعات میں بیرونی عناصر کے ملوث ہونے کا بھی الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ملکی خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
بین الاقوامی سطح پر ایران کی صورتحال پر تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یورپی ممالک، امریکہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی مظاہرین کے خلاف تشدد کی مذمت کر چکی ہیں اور ایرانی حکام سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر حالات میں بہتری نہ آئی تو یہ بحران نہ صرف ایران کے اندرونی استحکام بلکہ خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اس بات پر جمی ہوئی ہیں کہ آیا ایرانی حکام حالات کو پُرامن طریقے سے سنبھالنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں، اور آیا مظاہرین کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا یا نہیں۔

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں