اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دعویٰ کیا
ہے کہ امریکا ایک اتحادی ملک کے ساتھ مل کر ایرانی علاقے پر قبضے کی منصوبہ بندی کر چکا ہے، جس پر عملدرآمد کی صورت میں خطے میں سنگین کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
اپنے بیان میں ایرانی اسپیکر نے کہا کہ امریکا کی جانب سے ایک ایرانی جزیرے کو نشانہ بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے اس ممکنہ جزیرے یا متعلقہ ملک کا نام واضح نہیں کیا۔ قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے اس سمت میں کوئی عملی قدم اٹھایا تو ایران سخت اور فوری ردعمل دے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایسی کسی بھی کارروائی کی صورت میں خطے کی حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور ایران بھرپور جوابی حملوں کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔دوسری جانب واشنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے مختلف مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران درحقیقت مذاکرات کا خواہاں ہے اور ایک معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے، لیکن اس کی قیادت کھل کر اس بات کا اظہار کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایرانی قیادت کو خدشہ ہے کہ اگر وہ کسی ڈیل کی بات کرے گی تو اسے اپنے ہی عوام کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایرانی رہنماؤں کو امریکا کی طاقت کا بھی خوف لاحق ہے۔امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کی بحری اور فضائی صلاحیتوں کو نقصان پہنچایا ہے، تاہم بعض میڈیا رپورٹس اس کے برعکس تاثر دے رہی ہیں، جنہیں انہوں نے “فیک نیوز” قرار دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بیانات کی یہ جنگ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاس ہے۔ ایک طرف ایران ممکنہ جارحیت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔