اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت انتباہ جاری کر دیا
ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر اس نے جوہری تنصیبات کی تعمیر کا عمل جاری رکھا تو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایسی کسی بھی پیش رفت کو برداشت نہیں کرے گا اور ضرورت پڑی تو فوری کارروائی کی جائے گی۔فلوریڈا میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ ایران ایک بار پھر اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر ایران نے جوہری ڈھانچے کی تعمیر جاری رکھی تو امریکہ حملوں کی حمایت کرے گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ تصادم کے بجائے معاہدے کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم نہیں چاہتے کہ بی-ٹو بمبار طیارے بھیج کر ایندھن ضائع کریں، لیکن اگر ایران نے باز نہ آیا تو ہمیں سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔”
اسرائیل کی مکمل حمایت کا اعلان
امریکی صدر نے ایک بار پھر اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کا اعادہ کیا۔ نیتن یاہو کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل خطے میں امریکہ کا اہم اتحادی ہے اور واشنگٹن ہر سطح پر اس کا ساتھ دیتا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی سلامتی امریکہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔صدر ٹرمپ نے غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر حماس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا تو اسے اس کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ غزہ سے اسرائیلی انخلا ایک الگ معاملہ ہے، جس پر بات چیت جاری رہے گی۔
مغربی کنارے اور خطے کی صورتحال
امریکی صدر نے بتایا کہ مغربی کنارے کے معاملے پر طویل گفتگو ہوئی ہے اور وہاں کی صورتحال حساس ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مغربی کنارے کے معاملے پر اسرائیل اور ترکی کے درمیان کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے، جسے سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ غزہ سے متعلق منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز جلد متوقع ہے اور علاقے کی تعمیرِ نو کا کام بھی شروع کر دیا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے ایک سوال کے جواب میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ پر مبینہ یوکرینی حملے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خبر سن کر انہیں شدید غصہ آیا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے اب بھی کئی پیچیدہ مسائل درپیش ہیں، جن کا حل آسان نہیں۔امریکی صدر کے ان بیانات کے بعد عالمی سطح پر ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے، جبکہ عالمی طاقتیں آنے والے دنوں میں ممکنہ پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔