اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) وائٹ ہاؤس نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سفارتکاری کے ذریعے معاملات حل نہ ہوئے تو امریکی صدر کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات آج عمان کے دارالحکومت مسقط میں متوقع ہیں۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے متعلق اپنے مطالبات پر مکمل طور پر واضح ہیں اور وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا دونوں ممالک کے درمیان کوئی قابلِ عمل معاہدہ طے پا سکتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے ایرانی قیادت کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ امریکا سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے، تاہم صدر کے پاس اس کے علاوہ بھی کئی راستے موجود ہیں۔
کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ دنیا کی تاریخ کی سب سے طاقتور فوج کے کمانڈر انچیف ہیں اور ضرورت پڑنے پر اپنے اختیارات استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے بیان کو ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے تاکہ مذاکرات میں پیش رفت ممکن بنائی جا سکے۔دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران جوہری مذاکرات میں پورے اختیار کے ساتھ شریک ہوگا اور اس کا مقصد ایک منصفانہ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور باوقار مفاہمت تک پہنچنا ہے۔ ترجمان نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے اور دونوں فریق اختلافات کم کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مسقط میں ہونے والے یہ مذاکرات خطے کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، کیونکہ امریکا اور ایران کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔ ایسے میں عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارتکاری کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔