اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) انسانی جسم میں تابکار اجزا ان گنت مسائل اور بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ جسم سے تابکار مادے کو ختم کرنے والی دنیا کی پہلی کھائی جانیوالی دوا کے انسانوں پر تجربات شروع ہو گئے ہیں۔
تجرباتی دوا ‘ہوپو 14-1’ انسانی جسم سے تابکار مواد کو خارج کر دے گی اور اس کی مناسبیت، انسانی افادیت اور کسی بھی ضمنی اثرات پر غور کیا جائے گا۔
امریکہ میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکٹو ڈیزیز اور دیگر ادارے مشترکہ طور پر اس دوا کی جانچ کر رہے ہیں، جو اس وقت پہلے مرحلے سے گزر رہی ہے۔تابکار اجزا سانس کے ذریعے اور خاص طور پر زخمی جلد کے ذریعے جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ جوہری ماحول میں کام کرتے ہیں یا جو ایسے کسی حادثے سے گزر چکے ہیں وہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ تابکاری انسانی ڈی این اے، گوشت، ٹشوز اور دیگر اعضا کو شدید متاثر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں
امرض قلب اور کینسر کی ویکیسین کب تک دستیاب ہوگی ؟
اگرچہ یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایف ڈی اے)پہلے ہی ایسی دو دوائیوں کی منظوری دے چکی ہے۔ دونوں دوائیوں میں ‘ڈائیتھائل اینٹریامین’ (DTPA) ہوتا ہے جو جسم سے پلوٹونیم، امریکیم اور کیوریم جیسے تابکار عناصر کو خارج کرتا ہے۔ لیکن یہ ایک رگ میں انجکشن ہے.
لیکن اس نئی دوا کو کیپسول کی شکل میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ گولی پلوٹونیم، امریکیم اور کیوریم کے ساتھ ساتھ نیپٹونیم اور یورینیم کو بھی جسم سے باہر نکال سکتی ہے۔ پھر اس کی افادیت ڈی ٹی پی اے کے مقابلے میں 1000 گنا زیادہ دیکھی گئی ہے۔