اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاک افغان سیز فائر کے حوالے سے واضح موقف دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں یہ واضح طور پر طے پایا تھا کہ کوئی دراندازی نہیں ہوگی اور طالبان تحریک پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان میں کوئی سہولت نہیں دی جائے گی۔ پاکستان کی طرف سے اس بات کو بار بار دہرایا گیا، لیکن افغان حکومت نے اس کی تردید کی۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ترکی اور قطر نے زور دیا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آیا افغانستان کی زمین یا سرپرستی ٹی ٹی پی کو پاکستان میں کارروائی کے لیے دستیاب ہے یا نہیں۔ اس معاملے میں افغان حکومت کو بتایا گیا کہ سب کچھ صرف ایک شق پر منحصر ہے۔
وزیر دفاع نے یہ بھی واضح کیا کہ اس سیز فائر کے لیے کسی مخصوص مدت کا تعین نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی کسی تاریخ کے بعد معاہدے کی تجدید کی شرط رکھی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک کوئی خلاف ورزی نہیں ہوتی، پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی نافذ ہے۔
یہ معاہدہ افغان سرزمین سے ہونے والی دراندازی کے جواب میں پاک فوج کی کارروائی کے بعد طالبان کی درخواست پر طے پایا تھا۔