چیئرمین پی پی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پیپلز پارٹی کے لوگ قابل فخر اور وفادار ہیں، خیبرپختونخوا کے کارکن آج بھی بھٹو ازم کے نعرے لگاتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید بے نظیر نے 30 سال اپنے والد کے منشور پر جنگ لڑی، بے نظیر نے بچپن میں جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے خلاف جنگ لڑی۔ یوٹرن لینا لیڈر کی نہیں بزدل کی نشانی ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ قائد عوام نے نعرہ دیا تھا کہ ہر انسان روٹی، کپڑا اور مکان مانگتا ہے۔ قائد عوام نے نہ صرف نعرہ بلند کیا بلکہ اس پر عمل بھی کیا۔ اس وقت کوئی سیاسی مخالف نہیں، میرا مخالف مہنگائی، غربت ہے۔
بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ چاہتا ہوں کہ ہمیں عوام کی خدمت کا موقع ملے، ہم عوام کو مہنگائی کے سونامی سے بچائیں گے، خود کو تبدیلی کا نمائندہ کہنے والی دیگر سیاسی جماعتوں کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آگیا ہے
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا ن لیگ مہنگائی کرنے والی لیگ بن چکی ہے۔ میں نے غریبوں کو روزگار دیا، سولہ ماہ کی حکومت کا ذکر کرتے ہیں، مجھے اپنی سولہ ماہ کی کارکردگی پر فخر ہے
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی 16 ماہ کی حکومت میں تاریخی سیلاب کا سامنا کیا، سیلاب متاثرین کے لیے گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا، چند ماہ میں دو لاکھ گھروں کی تعمیر شروع ہوگئی ہے۔ میں نے بہت محنت کی ہے، میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ بطور وزیر خارجہ میں نے نوجوانوں کی نمائندگی کی ہے، وزیر خارجہ پاکستان کے تمام مسائل حل نہیں کر سکتا۔
“بھٹوازم کا مطلب پاکستان کے عوام کی خدمت کرنا ہے، امیر اور اشرافیہ کی نہیں بلکہ اس ملک کے مزدوروں، کسانوں اور محنت کشوں کی خدمت کرنا ہے۔ ہم اپنے نظریئے اور اصولوں کی خاطر جدوجہد کرتے ہیں اور اگر اس جدوجہد میں سزائے موت بھی دی جائے تو ہم اپنے اصولوں اور نظریئے سے پیچھے نہیں ہٹتے۔”… pic.twitter.com/QS22GG40D2
— PPP (@MediaCellPPP) November 18, 2023
چیئرمین پی پی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے جیالا کو وزیراعظم بنانا پڑے گا، جب جیالا وزیراعظم ہو گا تو میں صحیح طریقے سے خدمت کر سکوں گا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت پسماندہ طبقات کی نمائندگی کرتی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسا انقلابی پروگرام لے کر آئی، ہم آگے بڑھ کر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بڑھائیں گے، چھوٹے کسانوں کے لیے کسان کارڈ لائیں گے، سندھ میں بے نظیر مزدور کارڈ شروع کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے سرکاری ہسپتالوں کو لوٹ کر پرائیویٹ ہسپتالوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ کیا آپ کو یاد ہے کہ 1986 میں آئی جے آئی بنا کر سیاسی اتحاد کیا گیا، لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ہونے کے باوجود وہ الیکشن جیتا، مشرف دور کی دھاندلی کے باوجود پیپلز پارٹی نے اکثریت حاصل کی، آج بھی اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ وہ زبردستی کسی کو وزیراعظم بنا سکتے ہیں تو وہ غلطی پر ہیں۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے جیالے میدان میں موجود ہیں، ہم سب کا مقابلہ کرنے کو تیار ہیں، تیر کے نشان پر الیکشن لڑیں گے، کسی ’آئی جے آئی‘ کا حصہ نہیں بنیں گے، عوام پرانی سیاست سے تنگ آچکے ہیں۔