اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی اٹھہتر سالہ تاریخ میں کئی غلطیاں کی ہیں، تاہم افغانوں کی طویل عرصے تک مہمان نوازی ایک بڑی اور سنگین غلطی تھی، جس پر اللہ سے معافی طلب کرتے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان پر افغانستان میں ایک اسپتال پر حملے کا الزام ایسے عناصر کی جانب سے عائد کیا جا رہا ہے جو خود مسجدوں پر حملے کرواتے ہیں، سجدے میں موجود نمازیوں کو شہید کرتے ہیں اور نہتے شہریوں، بازاروں اور اسکولوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جو معصوم بچوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں اور خطے میں بدامنی پھیلانے میں ملوث رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ کو ذریعہ آمدن بنانے والے اور ریاست کے خلاف کارروائیاں کرنے والے عناصر وہی ہیں جنہیں پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے پناہ دیتا رہا۔ ان کے مطابق ان عناصر نے نہ صرف اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی بلکہ اربوں روپے کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بجائے مختلف مطالبات بھی سامنے لاتے رہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان عوام کو مشکل حالات میں نہ صرف پناہ دی بلکہ ان کے لیے ایک بڑی عالمی طاقت کے ساتھ بھی مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تین نسلوں تک افغان مہاجرین کی میزبانی کی، لیکن اس پالیسی کے نتائج اب سامنے آ رہے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے اپنے بیان میں زور دیا کہ اگرچہ پاکستان نے ماضی میں کئی پالیسی غلطیاں کیں، لیکن افغانوں کی طویل مہمان نوازی کو وہ سب سے بڑی اور واضح غلطی سمجھتے ہیں، جس پر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی جانی چاہیے۔