اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) بنگلا دیش کرکٹ میں ایک نیا تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا
جب قومی ٹیم کے موجودہ اور سابق کھلاڑیوں نے بنگلا دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کھیل کے تمام فارمیٹس کے بائیکاٹ کی وارننگ جاری کر دی۔یہ تنازع بی سی بی کے ڈائریکٹر ایم نظم الاسلام کے ایک متنازع بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے بنگلا دیش کے سابق کپتان اور اوپنر تمیم اقبال کو ’’انڈین ایجنٹ‘‘ قرار دیا۔ نظم الاسلام کا یہ بیان سوشل میڈیا پر سامنے آیا، جس کے بعد کرکٹ حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
نظم الاسلام نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ اس بار بنگلا دیش کے عوام نے اپنی آنکھوں سے ایک اور انڈین ایجنٹ کو دیکھ لیا ہے۔ ان کے اس بیان کو نہ صرف تمیم اقبال کی توہین قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے قومی کرکٹ کے وقار پر حملہ بھی سمجھا جا رہا ہے۔ بنگلا دیش کے کرکٹرز نے اس بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر ایم نظم الاسلام فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوئے تو وہ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سمیت کرکٹ کے تمام فارمیٹس کا بائیکاٹ کریں گے۔ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی قومی ہیرو پر اس طرح کے الزامات ناقابل قبول ہیں۔
ذرائع کے مطابق قومی ٹیم کے کئی سینئر اور جونیئر کھلاڑی اس معاملے پر متحد ہیں اور انہوں نے بی سی بی کو اپنا فیصلہ تحریری طور پر بھی آگاہ کر دیا ہے۔ کھلاڑیوں کا مؤقف ہے کہ کرکٹ بورڈ کے عہدیداروں کو ذمہ دارانہ بیانات دینے چاہئیں، کیونکہ ایسے الفاظ ٹیم کے اتحاد اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔تمیم اقبال، جو بنگلا دیش کرکٹ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں، اس معاملے پر تاحال براہ راست کوئی بیان نہیں دے سکے، تاہم ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس بیان سے دلبرداشتہ ہیں۔ کرکٹ شائقین اور سابق کھلاڑیوں نے بھی سوشل میڈیا پر نظم الاسلام کے خلاف شدید تنقید کی ہے۔
دوسری جانب بی سی بی کی جانب سے اس معاملے پر اب تک کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ کے اندر بھی اس بیان پر اختلافات پیدا ہو چکے ہیں اور ہنگامی اجلاس بلانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع طول پکڑتا ہے تو اس کے بنگلا دیش کرکٹ پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹیم بین الاقوامی مصروفیات کی تیاری کر رہی ہے۔ کھلاڑیوں اور بورڈ کے درمیان بڑھتی کشیدگی نہ صرف کھیل بلکہ ملک کی ساکھ کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔فی الحال تمام نظریں بی سی بی کے اگلے اقدام پر مرکوز ہیں کہ آیا ڈائریکٹر ایم نظم الاسلام اپنے عہدے سے دستبردار ہوتے ہیں یا یہ معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کرتا ہے۔