اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کیلگری کے شہری حکام نے رہائشیوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ پیر کے روز دفاتر اور اسکولوں کی دوبارہ شروعات سے قبل اپنے پانی کے استعمال میں نمایاں کمی کریں، کیونکہ شہر میں پانی کی کھپت خطرناک حد کے قریب پہنچتی جا رہی ہے۔ ہفتے کے روز شہر میں پانی کے استعمال کا رجحان “ریڈ زون” کی جانب بڑھتا دیکھا گیا، جس پر انتظامیہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شہر کے واٹر ڈیمانڈ ڈیش بورڈ کے مطابق ہفتے کے دن 495 ملین لیٹر پانی استعمال ہوا، جو جمعے کے مقابلے میں دو ملین لیٹر زیادہ ہے۔ یہ صورتحال 30 دسمبر کو بیئرزپا ساؤتھ فیڈر مین کے ایک بڑے پائپ کے ٹوٹنے کے بعد پیدا ہوئی، جو سرسی ٹریل اور 16 ایونیو نارتھ ویسٹ کے قریب واقع ہے۔ یہ پائپ شہر کی تقریباً 60 فیصد صاف شدہ پانی کی فراہمی کا ذریعہ ہے، اسی لیے اس خرابی نے پورے شہر کے نظام کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
کیلگری ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کی چیف سو ہنری نے بتایا کہ متاثرہ مقام سے پانی نکال دیا گیا ہے اور ٹوٹے ہوئے پائپ کو کھود کر سامنے لا لیا گیا ہے۔ اگلے مرحلے میں پائپ کے خراب حصے کو ہٹا کر نیا پائپ نصب کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کا ہدف پانی کے استعمال کو 485 ملین لیٹر یا اس سے کم سطح تک لانا ہے تاکہ ہنگامی حالات، فائر فائٹنگ اور دیگر زندگی بچانے والی ضروریات کے لیے پانی دستیاب رہے۔
میئر جیرومی فارکس کے ہمراہ سو ہنری نے شہریوں سے کہا کہ وہ شاور کا وقت تین منٹ سے کم رکھیں، ٹوائلٹ صرف ضرورت کے وقت فلش کریں اور ڈش واشر یا واشنگ مشین صرف مکمل لوڈ پر ہی چلائیں۔ ان کے مطابق ایک واشنگ مشین ایک ہی چکر میں 112 لیٹر تک پانی استعمال کر سکتی ہے۔
ادھر پارکڈیل، مونٹگمری، پوائنٹ میکے اور ویسٹ ہل ہرسٹ میں پانی ابالنے کی ہدایت بدستور نافذ ہے، جبکہ اسٹیج فور آؤٹ ڈور واٹر پابندیاں بھی برقرار ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر شہریوں نے تعاون نہ کیا تو مزید سخت اقدامات اور جرمانے بھی عائد کیے جا سکتے ہیں، جیسا کہ 2024 کے بحران کے دوران کیا گیا تھا۔
شہری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ وقتی نہیں بلکہ شہر کے پرانے آبی ڈھانچے کی کمزوری کی علامت ہے، جسے مستقل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی ناگزیر ہو چکی ہے۔