اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) سعودی عرب میں دہشت گردی کے الزامات ثابت ہونے پر تین افراد کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔
سعودی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ متعلقہ عدالت کی جانب سے شریعتِ اسلامی اور مملکت کے نافذ قوانین کے تحت سنایا گیا۔سعودی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ جن افراد کو سزائے موت دی گئی ان میں **حسین بن سالم بن محمد العمری، سعود بن ہلیل بن سعود العنزی اور بسام محسن مران السبیعی** شامل ہیں۔ وزارت کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے خفیہ معلومات اور جامع تحقیقات کے بعد تینوں ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔بیان میں کہا گیا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیس کو خصوصی فوجداری عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں شواہد، گواہوں کے بیانات اور اعترافات کی روشنی میں جرم ثابت ہوا۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے تینوں افراد کو دہشت گردی جیسے سنگین جرائم کا مرتکب قرار دیا۔
وزارت داخلہ کے مطابق ملزمان پر سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں میں دھماکہ خیز مواد نصب کرنے، سیکیورٹی اہلکاروں کو قتل کرنے کی کوشش، اور دہشت گرد عناصر کو پناہ فراہم کرنے جیسے الزامات ثابت ہوئے۔ یہ تمام کارروائیاں ریاستی سلامتی، عوامی جان و مال اور معاشرتی امن کے لیے سنگین خطرہ سمجھی جاتی ہیں۔
اپنے بیان میں سعودی وزارتِ داخلہ نے واضح کیا کہ مملکت میں امن و امان، استحکام اور شہریوں کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بیان میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ سعودی عرب دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے اور ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی جاری رکھی جائے گی۔سعودی حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد انصاف کی فراہمی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی میں ملوث عناصر کے لیے واضح پیغام دینا ہے کہ مملکت میں قانون شکنی اور تشدد کی کوئی گنجائش نہیں۔