اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)سرے (Surrey) میں بھتہ خوری سے متعلق ایک حالیہ واقعے کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے تین مشتبہ افراد کو صوبائی عدالت میں مکمل پیشی کے لیے مزید ایک ہفتہ انتظار کرنا ہوگا۔
ہرجوت سنگھ، ترن ویر سنگھ اور دیاجیت سنگھ بلنگ جن کی عمریں 19 سے 21 سال کے درمیان ہیں، جمعرات کی صبح مختصر طور پر عدالت میں پیش ہوئے۔ ملزمان کے وکیل کی درخواست پر مکمل سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
یہ تینوں افراد اتوار کے روز اینٹی ایکسٹورشن یونٹ کی کارروائی کے دوران گرفتار کیے گئے تھے، جب ایک رہائشی گھر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ گرفتاری کے بعد سے تینوں ملزمان پولیس حراست میں ہیں۔ہر ملزم پر آتشیں اسلحہ استعمال کرنے (فائرنگ کرنے) کی ایک ایک فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
یہ تازہ واقعہ سرے پولیس کی جانب سے رواں سال اب تک زیرِ تفتیش 46 بھتہ خوری کے مقدمات کی جانب توجہ دلاتا ہے۔ برٹش کولمبیا ایکسٹورشن ٹاسک فورس کے مطابق گزشتہ ماہ تک لوئر مین لینڈ میں اس نوعیت کے 32 فعال کیسز موجود تھے۔
سرے کی میئر برینڈا لاک اس ہفتے اوٹاوا میں موجود تھیں، جہاں انہوں نے وفاقی حکومت سے اپنی کمیونٹی میں بھتہ خوری سے متعلق جرائم پر قابو پانے کے لیے مزید مدد طلب کی۔
میئر لاک کا کہنا ہے کہ وہ کینیڈا کے قوانین میں ترمیم کی کوششوں کی حمایت کرتی ہیں، تاکہ بھتہ خوری جیسے جرائم میں ملوث افراد کو پناہ کی درخواست دینے سے روکا جا سکے۔
کینیڈا بارڈر سروسز ایجنسی (CBSA) نے دسمبر میں بتایا تھا کہ بھتہ خوری کے الزامات کا سامنا کرنے والے 15 غیر ملکی افراد نے کینیڈا میں پناہ گزین حیثیت کے لیے درخواست دی تھی۔
سی بی ایس اے کے مطابق اتوار کو گرفتار کیے گئے تینوں افراد کس بنیاد پر کینیڈا میں موجود ہیں، یہ تاحال واضح نہیں، تاہم ان کے امیگریشن اسٹیٹس کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔