اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب، آزاد کشمیر سے لے کر مقبوضہ جموں و کشمیر تک، اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یومِ شہدائے جموں انتہائی عقیدت، احترام اور قومی جوش و جذبے کے ساتھ منا رہے ہیں۔یہ دن 6 نومبر 1947 کے اُن المناک واقعات کی یاد دلاتا ہے جب ڈوگرہ راج اور ہندو انتہاپسندوں کے جتھوں نے لاکھوں بے گناہ کشمیری مسلمانوں کو بیدردی سے شہید کر دیا تھا۔
ان شہداء میں نہ صرف مرد بلکہ ہزاروں خواتین اور معصوم بچے بھی شامل تھے، جو اپنے گھروں سے ہجرت کی کوشش میں راستے میں ہی ظلم و بربریت کا نشانہ بنے۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق، صرف ایک ہفتے کے دوران ڈھائی سے تین لاکھ کشمیری مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا، جب کہ ہزاروں کو جبراً لاپتہ کر دیا گیا اور کئی دیہات مکمل طور پر جلا دیے گئے۔
یومِ شہدائے جموں کے موقع پر ہر سال کشمیری قوم یہ عہد دہراتی ہے کہ وہ اپنے شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کرے گی اور آزادی کی جدوجہد کو اُس وقت تک جاری رکھے گی جب تک کشمیر کے عوام کو ان کا حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا۔
آزاد کشمیر، پاکستان کے مختلف شہروں، لندن، نیویارک، برسلز اور مشرقِ وسطیٰ میں مقیم کشمیری تنظیموں نے آج جلسے، ریلیاں اور دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا ہے، جن میں 1947 کے قتل عام کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔
مقررین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ اب بھی جاری ہے، اور گزشتہ 77 برسوں سے کشمیریوں کو سیاسی و معاشرتی طور پر دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے مظالم کو نسل کشی (Genocide) کے زمرے میں تسلیم کریں اور اس مسئلے کے پائیدار حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی اس موقع پر جاری بیان میں کہا ہے کہ "یومِ شہدائے جموں ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کشمیری عوام نے آزادی کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ بھارت کے غیر قانونی قبضے اور ریاستی جبر کے باوجود کشمیریوں کا حوصلہ آج بھی بلند ہے۔
حکومتی ترجمان کے مطابق پاکستان سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے اور وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھارت کو جواب دہ ٹھہرائے۔
یومِ شہدائے جموں صرف ایک تاریخی یاد نہیں بلکہ ایک زندہ تحریک کی علامت ہے ایک ایسی جدوجہد جو ظلم کے خلاف، انصاف کے لیے، اور ایک آزاد کشمیر کے خواب کی تعبیر کے لیے آج بھی جاری ہے۔