تجارتی جنگ،کینیڈا کو برآمدی تنوع میں سپلائی چین کا بڑا چیلنج

اردو ورلڈ کینیڈا( ویب نیوز ) کینیڈا پر امریکی ٹیرف کے دباؤ کے باعث برآمدات کو امریکا سے باہر منتقل کرنے کی دوڑ تیز ہو گئی ہے

تاہم سپلائی چین کی محدود صلاحیت کینیڈا کی تجارتی تنوع کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ حالیہ ہفتہ کینیڈین معیشت کے لیے خاصا مشکل ثابت ہوا، جہاں ایک طرف جنرل موٹرز نے اوشاوا، اونٹاریو کے پلانٹ میں 500 ملازمین کو فارغ کر دیا، تو دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی جانب سے کینیڈا کی ایرو اسپیس صنعت کو نشانہ بنانے کی نئی دھمکیاں سامنے آئیں۔ اسی دوران اسٹیٹسٹکس کینیڈا نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں بتایا کہ گزشتہ سال کی آخری سہ ماہی میں مجموعی قومی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔
ان تمام منفی خبروں کے سائے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کینیڈا اپنی برآمدات کو امریکا پر انحصار سے ہٹا کر دیگر ممالک کی جانب کتنی تیزی سے منتقل کر سکتا ہے۔ وفاقی حکومت نے دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ تجارت میں نمایاں اضافے، اندرونی تجارت کو مضبوط بنانے اور آئندہ پانچ برسوں میں تقریباً ایک کھرب ڈالر تک سرمایہ کاری بڑھانے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بنیادی ڈھانچے اور تجارتی تعلقات راتوں رات قائم نہیں ہو سکتے، جبکہ معاشی دباؤ اسی وقت شدت اختیار کر چکا ہے۔
کینیڈا کی آٹو موبائل صنعت اس تجارتی کشمکش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں شامل ہے۔ ہزاروں ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں، متعدد شفٹس معطل ہیں اور ونڈسر، اونٹاریو ملک میں سب سے زیادہ بیروزگاری کی شرح کا سامنا کر رہا ہے۔ اونٹاریو حکومت کے فنانشل اکاؤنٹیبلٹی آفیسر کی ایک رپورٹ کے مطابق، صوبے میں مینوفیکچرنگ کی ملازمتیں مجموعی روزگار کے دس فیصد سے بھی کم ہو گئی ہیں، جو 1976 کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔
اسی پس منظر میں وفاقی حکومت نے حال ہی میں جنوبی کوریا کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس میں کینیڈا میں کوریائی آٹو موٹیو صنعت کے فروغ پر تعاون کا عندیہ دیا گیا ہے۔ حکومتی بیان میں کہا گیا کہ کینیڈا ایک آٹو نیشن ہے اور حکومت ملازمتوں کے تحفظ اور صنعت کو مضبوط بنانے کے لیے اسٹریٹجک سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ تاہم عملی صورتحال اتنی حوصلہ افزا نظر نہیں آتی، کیونکہ ہیونڈائی موٹر گروپ نے واضح کیا ہے کہ فی الحال کینیڈا میں گاڑیوں کی تیاری کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں، البتہ ہائیڈروجن انرجی کے شعبے میں تعاون کے امکانات دیکھے جا رہے

بینک آف کینیڈا کے مطابق، ملکی کمپنیاں امریکا کے علاوہ دیگر منڈیوں کی تلاش میں ہیں، لیکن نئے بازار ڈھونڈنا اور نئی برآمدی سپلائی چینز قائم کرنا وقت طلب اور مہنگا عمل ہے۔ آر بی سی کی ماہر معاشیات کلیئر فین کا کہنا ہے کہ وہی کمپنیاں نسبتاً بہتر طور پر خود کو ڈھال پائیں جو پہلے ہی غیر امریکی منڈیوں کو برآمدات کر رہی تھیں، جبکہ باقی ادارے پیچھے رہ گئے۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ تجارتی تنوع کے لیے بندرگاہوں، ریل نیٹ ورک اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی توسیع ناگزیر ہے۔ کینیڈین نیشنل ریلوے کی سی ای او ٹریسی رابنسن کے مطابق، اگر مستقبل میں عالمی منڈیوں میں تجارت کا حصہ پچاس فیصد تک پہنچانا ہے تو بندرگاہوں، ٹرمینلز اور ریل کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرنا ہو گا۔ تاہم کینیڈا میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کی منظوری اور تکمیل میں طویل تاخیر ایک مستقل مسئلہ رہی ہے، جس کی مثال ٹرانس ماؤنٹین پائپ لائن ہے، جسے مکمل ہونے میں چودہ برس لگے۔

کینیڈا بلڈنگ ٹریڈز یونین کے نمائندے شان اسٹرکلینڈ کے مطابق، بندرگاہوں پر چینلز کی کھدائی جیسے کاموں کے لیے برسوں کی اجازت درکار ہوتی ہے، جو تجارتی وسعت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ تجارتی تنوع ضروری ہے، لیکن کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے درمیان تجارتی معاہدہ، یعنی کسمہ، کی شرائط کا تحفظ سب سے اہم ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ یہ معاہدہ کینیڈین کارکنوں اور کاروبار دونوں کے لیے فائدہ مند رہا ہے۔ماہرین کے مطابق، تجارتی تنوع کچھ صنعتوں کو وقتی سہارا ضرور دے سکتا ہے اور امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کینیڈا کے مؤقف کو مضبوط بنا سکتا ہے، مگر اس کے باوجود ملک کی کاروباری برادری کا واضح مؤقف ہے کہ سب سے اہم ہدف امریکا کے ساتھ ایک مضبوط اور منصفانہ تجارتی معاہدے کا تحفظ ہونا چاہیے، کیونکہ کینیڈا کی معیشت کا بڑا انحصار اب بھی اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار پر ہے۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں