اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں پر غور کر رہی ہے
جس میں ایران میں جاری مظاہروں کے دوران غیر فوجی اہداف کو ہدف بنانے کے آپشن پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ یہ دعویٰ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے کیا ہے۔اخبار کے مطابق، صدر ٹرمپ کو ایران پر فوجی حملوں کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی گئی ہے اور اس کے بعد انتظامیہ نے تہران میں غیر فوجی اہداف پر ممکنہ کارروائی کے بارے میں غور شروع کر دیا ہے۔ تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ صدر نے ابھی ایران پر کسی بھی حملے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
نیو یارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ صدر ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین کو دبانے کی کوشش کرتی ہے تو وہ سنجیدگی سے فوجی کارروائی کی اجازت دے سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے گزشتہ دنوں ایرانی قیادت کو سخت تنبیہ کی تھی کہ اگر مظاہرین کو تشدد یا قتل کا نشانہ بنایا گیا تو امریکا اس پر سخت ردعمل دے گا۔
ایران میں عوامی مظاہرے 13 ویں روز بھی جاری ہیں، جن میں اب تک مختلف رپورٹس کے مطابق 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 15 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ تاہم امریکی جریدے **ٹائم میگزین** کے مطابق، جھڑپوں اور مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 217 تک پہنچ گئی ہے۔ مظاہروں کا آغاز حالیہ دنوں میں حکومتی پالیسیوں، معیشتی مسائل اور شہری آزادیوں کے محدود ہونے کے خلاف ہوا، اور اب یہ مظاہرے وسیع پیمانے پر سیاسی کشیدگی کا باعث بن گئے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کی جانب سے اظہار رائے کی آزادی کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران ماضی کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ آزادی کی جانب دیکھ رہا ہے اور امریکا اس کی مدد کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق امریکا ایران میں پرامن مظاہرین کے حق میں کھڑا ہے اور انسانی حقوق کی پامالی پر خاموش نہیں رہے گا۔
ماہرین کے مطابق، اگر امریکا ایران میں غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کی کارروائی کی اجازت دیتا ہے تو اس کے خطے میں وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس اقدام سے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور خلیج فارس میں امن و استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ساتھ ہی عالمی سطح پر تیل کی سپلائی اور اقتصادی مارکیٹ پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
ایرانی حکومت کی جانب سے مظاہرین کو دبانے کی کوششیں، امریکی ہدایات اور ممکنہ فوجی کارروائی کے امکانات خطے میں سیاسی اور عسکری تناؤ کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، انسانی حقوق کے کارکنان اور عالمی برادری نے بھی امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ ایران میں مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے تشدد کو محدود کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔
صدر ٹرمپ نے بارہا واضح کیا ہے کہ امریکا انسانی حقوق اور آزادی اظہار کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی حکومت اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کرتی ہے تو امریکا کی طرف سے فوری اور سخت جواب دیا جا سکتا ہے۔ اس پالیسی کے ذریعے امریکا ایران میں جاری مظاہروں کو بین الاقوامی توجہ دلانے کے ساتھ ساتھ ایرانی عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔اس دوران عالمی رہنما اور انسانی حقوق کے گروپ بھی اس صورتحال پر مسلسل نگرانی رکھے ہوئے ہیں۔ متعدد ممالک نے امریکا اور ایران دونوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مذاکرات اور پرامن حل کی کوششیں کریں۔
اس صورتحال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایران میں جاری مظاہرے صرف داخلی سیاسی احتجاج تک محدود نہیں ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر خطے کی سلامتی اور عالمی تعلقات پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائی، چاہے وہ غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے تک محدود ہو، ایران کی حکومت کے رویے، مظاہرین کی حفاظت اور خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ بڑھا تو یہ خلیج فارس میں تجارتی راہوں، تیل کی ترسیل اور عالمی اقتصادی استحکام پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن قائم رکھنے کے لیے ڈپلومیسی کے ذریعے مؤثر کردار ادا کرے۔