اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ کی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کے معاملے پر عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے اتحادی ممالک سے مدد کی اپیل کے باوجود دنیا کے کئی بڑے ممالک نے اس معاملے میں عملی تعاون سے گریز کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکہ نے اپنے قریبی اتحادی ممالک سے درخواست کی تھی کہ وہ خلیجی پانیوں میں اپنے جنگی بحری جہاز تعینات کریں تاکہ عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہر قسم کی رکاوٹ سے محفوظ رہ سکے۔ تاہم اس اپیل کے بعد کئی ممالک نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے براہِ راست فوجی تعاون سے انکار کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جاپان ،آسٹریلیا اور برطانیہ نے خلیج میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے معذرت کر لی ہے۔ ان ممالک کا موقف ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی فوجی کارروائی میں شامل ہونا حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ سمندری گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور یہاں سے دنیا کے ایک بڑے حصے تک تیل اور گیس کی فراہمی ہوتی ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہو جائے تو عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ادھر خطے میں کشیدگی کے تناظر میں ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات پہلے ہی تناؤ کا شکار ہیں، جس کے باعث کئی ممالک کسی بھی ممکنہ تصادم سے دور رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ممالک اس مسئلے کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے نکالنے کے حق میں ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر عالمی طاقتیں مشترکہ حکمت عملی اختیار نہ کر سکیں تو آبنائے ہرمز میں سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پوری دنیا کی معیشت پر پڑ سکتے ہیں۔عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آنے والے دنوں میں اس اہم سمندری گزرگاہ کی سلامتی کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔