اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صد رڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری تباہ کن جنگ جلد ختم ہونے والی ہے
اور دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کا ڈرافٹ تقریباً تیار ہو چکا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ امن منصوبے پر ’’نمایاں پیش رفت‘‘ ہوئی ہے، اگرچہ کچھ حساس معاملات پر مزید بات چیت درکار ہے۔تھینکس گیونگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’’روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں ہزاروں فوجی مارے جا چکے ہیں، لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ ہم امن کے تاریخی مرحلے کے بہت قریب ہیں۔‘‘ ٹرمپ کے مطابق امن مسودے پر ’’غیر معمولی‘‘ پیش رفت ہوئی ہے اور معاہدہ اب حتمی شکل اختیار کرنے والا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے خطاب میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے ابتدائی نو ماہ میں **آٹھ جنگیں روکی ہیں**، اور اب ان کی کوشش ہے کہ روس—یوکرین جنگ کا بھی خاتمہ ہو جائے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف کو ماسکو بھیجنے کی ہدایت کر دی ہے تاکہ روسی صدر سے ملاقات کرکے معاہدے کے آخری نکات طے کیے جا سکیں۔امریکی صدر کے مطابق امن معاہدے کے مسودے میں صرف چند نکات باقی رہ گئے ہیں، جن پر اتفاق کے بعد جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران امن منصوبے پر قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم ترجمان کے مطابق کچھ ’’نہایت نازک اور حساس‘‘ نکات پر مزید مذاکرات کی ضرورت ہے، جن کے بغیر معاہدہ مکمل نہیں ہو سکتا۔چند روز قبل جنیوا میں امریکی اور یوکرینی حکام کے درمیان ملاقات ہوئی تھی، جس میں امریکی 28 نکاتی امن تجویز پر بات چیت کی گئی۔ اس کے بعد دونوں ممالک نے اعلان کیا کہ وہ ایک نئے فریم ورک پر کام شروع کریں گے جو جنگ بندی اور دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکے گا۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی یوکرین کو **27 نومبر** کی ڈیڈ لائن دے چکے ہیں کہ وہ امن مسودے کو قبول کرے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس ڈیڈ لائن نے مذاکرات میں دباؤ بڑھا دیا ہے، تاہم بعض یورپی ممالک نے اس پر تحفظات بھی ظاہر کیے ہیں۔روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی سرگرمیوں سے واضح ہے کہ جنگ کے خاتمے کی کوششیں فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، مگر کوئی بھی اعلان دونوں فریقوں کی حتمی رضامندی سے مشروط ہوگا۔