اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کو تاحال مؤخر رکھنے کے فیصلے سے عالمی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔ مکمل عسکری تیاریوں اور سخت بیانات کے باوجود حملہ نہ کیے جانے کی وجہ اب خود صدر ٹرمپ نے واضح کر دی ہے، جس کا تعلق ایران میں مظاہرین کے ساتھ مبینہ سلوک سے جوڑا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق وائٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا عرب ممالک یا اسرائیلی قیادت نے امریکا کو ایران پر فوری حملے سے روکا۔ اس سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ یہ فیصلہ کسی دباؤ، مشورے یا سفارتی مداخلت کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کسی نے مجھے قائل نہیں کیا، بلکہ میں نے خود کو قائل کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے ایک روز قبل 800 سے زائد گرفتار مظاہرین کو پھانسی دینے کا اعلان سامنے آیا تھا، تاہم بعد میں یہ سزائیں عملی طور پر نافذ نہیں کی گئیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اسی پیش رفت نے انہیں اپنے فوجی فیصلے پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب انہیں اطلاع ملی کہ ایران نے پھانسیوں پر عمل درآمد روک دیا ہے تو انہوں نے بھی ایران پر حملے کے منصوبے کو فی الحال مؤخر کر دیا۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان اس بات کا اب تک کا سب سے واضح اشارہ ہے کہ امریکا نے ایران میں مظاہرین کے خلاف ممکنہ ریاستی کریک ڈاؤن کو فوجی کارروائی سے مشروط کر رکھا ہے۔
یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے سخت انتباہ جاری کیا تھا کہ اگر ایران نے مظاہرین کے قتل کا سلسلہ جاری رکھا تو امریکا فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ بدھ کے روز صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ایرانی حکام نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف سزاؤں کا عمل روک دیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی کہا گیا کہ بدھ کو متوقع 800 سزائے موت منسوخ کر دی گئی تھیں، تاہم اس معاملے پر ابہام برقرار ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ان سزاؤں کی تاریخ بدھ بتائی، جبکہ صدر ٹرمپ نے بعد میں جمعرات کا ذکر کیا، جس سے بیانات میں تضاد سامنے آیا۔
واضح رہے کہ ایرانی حکومت نے سرکاری سطح پر کبھی بھی 800 مظاہرین کو پھانسی دینے کے منصوبے کی تصدیق نہیں کی۔ اس کے باوجود صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کا احترام کرتے ہیں جس کے تحت مبینہ طور پر بڑی تعداد میں پھانسیاں منسوخ کی گئیں۔
دوسری جانب ناروے میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ’’ایران ہیومن رائٹس‘‘ کے مطابق اب تک ایران میں مظاہروں کے دوران 3 ہزار 428 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔