اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ظہران ممدانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت کے باوجود نیو یارک کے بھاری اکثریت سے پہلے مسلمان مئیر منتخب ہوئے
ظہران ممدانی کون ہیں؟
ظہران ممدانی نیویارک شہر کے نئے میئر منتخب ہوئے ہیں۔ انہوں نے ۴ نومبر ۲۰۲۵ کے بلدیاتی انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔ وہ ۳۴ برس کے ہیں، یوگینڈا میں پیدا ہوئے اور جنوبی ایشیائی پس منظر رکھتے ہیں۔ وہ شہر کے پہلے مسلمان میئر اور سب سے کم عمر میئر ہوں گے۔ممدانی اس سے پہلے ریاستی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اور انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں کرایہ منجمد رکھنے، زیرِ زمین ٹرین اور بسوں کو مفت کرنے اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے سہولتوں میں اضافہ جیسے وعدے کیے تھے۔ نوجوان ووٹروں، تبدیلی کے خواہشمند شہریوں اور ترقی پسند حلقوں نے بھرپور حمایت کی، تاہم تجربے کی کمی اور بعض پالیسیوں پر انہیں تنقید کا بھی سامنا رہا۔
ٹرمپ کا ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک کاروباری فورم میں خطاب کے دوران کہا کہ ممدانی کے میئر بننے کے بعد نیویارک اپنی خود مختاری کھو دے گا اور شہری بڑی تعداد میں فلوریڈا منتقل ہونا شروع ہوجائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ میامی جلد ہی نیویارک سے نکلنے والے لوگوں کی پناہ گاہ بن جائے گا، کیونکہ وہ ممدانی کے ’انتہائی نظریات‘ سے بچنا چاہیں گے۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایٹمی طاقت میں سب سے آگے ہے، روس دوسرے اور چین تیسرے نمبر پر ہے، مگر چین چند برسوں میں برابر کی سطح پر پہنچ سکتا ہے۔مزید برآں انہوں نے جنوبی افریقہ کو بڑے ممالک کے گروپ سے نکالنے کی تجویز دیتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اس ماہ جنوبی افریقہ میں ہونے والے اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔
<blockquote class=”twitter-tweet” data-media-max-width=”560″><p lang=”en” dir=”ltr”>🚨 EPIC! President Trump was just spotted doing the Trump dance in Miami<br><br>The crowd LOVES it<br><br>🔥 🤣🇺🇸<br><br> <a href=”https://t.co/0iR70BQx4E”>pic.twitter.com/0iR70BQx4E</a></p>— Eric Daugherty (@EricLDaugh) <a href=”https://twitter.com/EricLDaugh/status/1986160334365680118?ref_src=twsrc%5Etfw”>November 5, 2025</a></blockquote> <script async src=”https://platform.twitter.com/widgets.js” charset=”utf-8″></script>
انتخابی کامیابی اور ممکنہ اثرات
ممدانی نے ۵۰ فیصد سے زائد ووٹ حاصل کرکے واضح برتری سے کامیابی حاصل کی۔ ان کی جیت کو تاریخی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے پہلی بار ایک مسلمان اور جنوبی ایشیائی نژاد شخص نیویارک جیسے بڑے اور عالمی شہر کا میئر بنا ہے۔تاہم اب ان کے سامنے بڑے چیلنج موجود ہیں:
* کرایہ منجمد رکھنے کا وعدہ،* ٹرانسپورٹ مفت کرنے کا منصوبہ،* کم آمدنی والے طبقات کے لیے سہولتوں میں اضافہ،* ممکنہ اضافی ٹیکس اور اس کے معاشی اثرات،یہ اقدامات ان کے لیے سیاسی اور انتظامی آزمائش ثابت ہوسکتے ہیں۔
ٹرمپ کے خدشات اور سیاسی ماحول
ٹرمپ کے بیانات نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا واقعی شہری نیویارک چھوڑنے لگیں گے؟ان کا کہنا ہے کہ ممدانی کی پالیسیوں سے کاروبار، سرمایہ کار اور بڑے ٹیکس دہندگان متاثر ہوں گے۔ان کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نیویارک کی نئی قیادت سے ناخوش ہیں اور مستقبل میں اسے سیاسی نکتہ چینی کا محور بنائیں گے۔
آگے کیا ہوسکتا ہے؟
ممدانی کی جیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ شہر کے شہری — خاص طور پر نوجوان اور متوسط طبقہ — پالیسی کی تبدیلی چاہتے تھے، لیکن اب ان کے سامنے انتظامی اہلیت ثابت کرنے کا چیلنج ہے۔دوسری طرف، ٹرمپ کے بیانات نے سیاسی فضا کو مزید گرم کر دیا ہے اور اس سے سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقے میں بے چینی پیدا ہوسکتی ہے۔آیا لوگ واقعی نقل مکانی کریں گے یا نہیں، اس بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار ابھی سامنے نہیں آئے۔یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ نیویارک کی نئی میئر شپ ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کیسا اثر چھوڑتی ہے اور ٹرمپ جیسی مخالفت سے کس طرح نمٹتی ہے۔