اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے دوران اتحادی ممالک کی جانب سے مدد سے انکار پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے
کہا ہے کہ امریکا کو کسی بھی قسم کی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایک طاقتور ملک ہے اور اپنے فیصلے خود کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اتحادی ساتھ نہ بھی دیں تو امریکا تنہا اپنے مفادات کا دفاع کر سکتا ہے۔ٹرمپ نے نیٹو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد اس وقت ایک بڑی غلطی کر رہا ہے۔ ان کے مطابق نیٹو کو اس حساس صورتحال میں امریکا کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا، تاہم بعض ممالک نے محتاط رویہ اختیار کیا۔فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا کہ میکرون جلد ہی عہدہ چھوڑ دیں گے۔ میکرون نے اس سے قبل آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی فوجی کارروائی میں شامل ہونے سے انکار کیا تھا۔
امریکی صدر نے جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک امریکا کے مؤقف سے متفق تھے، لیکن عملی طور پر ساتھ نہیں دے سکے۔یاد رہے کہ برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، جاپان، جنوبی کوریا اور چین پہلے ہی آبنائے ہرمز سے متعلق کسی ممکنہ فوجی کارروائی میں شرکت سے انکار کر چکے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق اتحادیوں کی جانب سے اس طرح کے انکار نے امریکا کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کا تاثر دیا ہے، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے یکطرفہ کارروائی کی تو اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے اور خلیجی خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔