اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برٹش کولمبیا کے علاقے ٹمبلر رج میں گزشتہ ہفتے ہونے والی ہولناک فائرنگ کے بعد
مقامی اسکول ڈسٹرکٹ نے اعلان کیا ہے کہ طلبہ موجودہ ہائی اسکول کی عمارت میں واپس نہیں جائیں گے۔ School District No. 59 (Peace River South) کی جانب سے 13 فروری کو والدین کے نام جاری خط میں کہا گیا کہ آئندہ کے تمام انتظامات میں طلبہ کی جسمانی اور ذہنی سلامتی کو اولین ترجیح دی جائے گی اور موجودہ اسکول سائٹ دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔
سپرنٹنڈنٹ Christy Fennell نے خط میں لکھا کہ منصوبہ بندی کے دوران توقع یہی ہے کہ طلبہ کو موجودہ ہائی اسکول کی عمارت میں واپس نہیں بھیجا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ خاندان تعلیمی معمولات کی بحالی چاہتے ہیں جبکہ بعض ابھی ذہنی طور پر تیار نہیں، اس لیے آئندہ ہفتے ایسا لائحہ عمل پیش کیا جائے گا جو صدمے سے نمٹنے کے تقاضوں کو مدنظر رکھے گا۔
پیِس ریور ساؤتھ سے تعلق رکھنے والے بی سی کنزرویٹو ایم ایل اے Larry Neufeld نے کہا کہ کمیونٹی میں سب سے بڑی تشویش یہی تھی کہ آیا بچوں کو دوبارہ اسی عمارت میں بھیجا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “محض رنگ و روغن یا دیواروں پر نقش و نگار بنا کر بچوں کو اس جگہ واپس بھیجنا ناقابلِ تصور ہے۔ بطور بالغ بھی میں وہاں جانا پسند نہیں کروں گا، بچوں کو تو ہرگز مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔” انہوں نے بتایا کہ صوبائی قیادت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ طلبہ کو عارضی کلاس رومز (پورٹیبلز) اور دیگر متبادل انتظامات فراہم کیے جائیں گے۔
ڈسٹرکٹ کے مطابق طلبہ اور اہلِ خانہ کے لیے معاونت کی سہولیات مقامی کمیونٹی ریکری ایشن سینٹر میں روزانہ صبح 8 بجے سے رات 10 بجے تک دستیاب ہیں تاکہ متاثرین کو مشاورت اور مدد فراہم کی جا سکے۔یہ فیصلہ 10 فروری کو پیش آنے والے المناک واقعے کے بعد کیا گیا، جس میں ایک 18 سالہ نوجوان Jesse Van Rootselaar نے فائرنگ کر کے آٹھ افراد کو قتل کر دیا تھا اور بعد ازاں خود بھی ہلاک ہو گیا۔ واقعے کے بعد چھوٹے سے شمال مشرقی برٹش کولمبیا کے قصبے میں یادگاری تقاریب اور دعائیہ اجتماعات منعقد کیے گئے، جن میں وزیر اعظم Mark اور اپوزیشن لیڈر Pierre Poilievre نے بھی شرکت کی۔
دریں اثناRoyal Canadian Mounted Police (بی سی آر سی ایم پی) کے مطابق تفتیشی اور فرانزک ٹیمیں اسکول کی عمارت اور اس سے منسلک ایک رہائش گاہ کا معائنہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب تک 80 سے زائد طلبہ، اساتذہ اور ایمرجنسی ریسپانڈرز کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید گواہوں سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹس ویک اینڈ کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔