اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ترکیہ کی حکومت نے غزہ میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی اقدامات کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سمیت اعلیٰ حکام کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر د ئیے ہیں۔
ترکیہ کے پبلک پراسیکیوٹر آفس کے مطابق نیتن یاہو اور دیگر حکام میں وزیر دفاع، وزیر قومی سلامتی، اسرائیل فوج کے چیف آف اسٹاف اور نیوی کمانڈر شامل ہیں۔
کل 37 افراد کے نام وارنٹ میں شامل ہیں جو فلسطینی عوام کے خلاف جرائم اور انسانیت کے دشمن اقدامات میں ملوث قرار پائے ہیں ترکیہ کے پراسیکیوٹر کے بیان کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں شہریوں کو نشانہ بنایا، اور انہیں خوراک، پانی، ادویات، ایندھن اور بجلی کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا۔
ان اقدامات کو بین الاقوامی قانون اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں نسل کشی کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ وارنٹ عالمی عدالت کے اصولوں کے مطابق جاری کیے گئے ہیں تاکہ عالمی سطح پر اسرائیلی حکام کے اقدامات پر قانونی کارروائی ہو سکے۔
ترک حکام نے زور دیا کہ اس اقدام کا مقصد عالمی برادری کو آگاہ کرنا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنا ہے۔واضح رہے کہ یہ قدم عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف شدید تنقید کے درمیان اٹھایا گیا ہے اور اس سے علاقائی سیاسی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔
وارنٹ گرفتاری کے بعد بین الاقوامی سطح پر اسرائیلی حکام کی نقل و حرکت اور قانونی موقف پر سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ترکیہ کا کہنا ہے کہ وہ عالمی قوانین کے تحت فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا اور اسرائیلی حکام کو انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے جواب دہ بنائے گا۔
یہ اقدام غزہ میں جاری بحران اور انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے ایک اہم عالمی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔