اردوورلڈ کینیڈا( ویب نیوز)ہماچل پردیش کے ضلع سرمور کے گاؤں شِلّائی میں ہاٹی قبائل سے تعلق رکھنے والے دو بھائی، پرادیپ اور کپیل نیگی، نے ایک خاتون سنیتا چوہان سے مشترکہ شادی کی ہے۔ یہ غیر معمولی شادی 12 جولائی کو شروع ہوئی اور تقریبا تین دن جاری رہنے والی ایک ثقافتی تقریب میں منعقد ہوئی، جہاں مقامی لوگوں نے بھرپور شرکت کی۔
قبائلی رسم ‘جودیڑارا’ یا ‘جاجڑا’ کے تحت یہ شادی باہمی رضامندی، شفافیت اور ثقافتی فخر کے ساتھ کی گئی۔ دلہن سنیتا نے بتایا کہ یہ فیصلہ دباؤ کے بغیر کیا گیا جبکہ دولہے بتایا کہ وہ اس روایت پر فخر کرتے ہیں۔
یہ رسم باہمی شادی برادری کے اندر بھائیوں کے متعدد فوائد کو برقرار رکھنے اور زمین کے ٹکڑے ہونے سے بچانے کے لیے اپنائی جاتی ہے۔ اس میں دلہن ایک مشترکہ خاندان میں رہتی ہے، جہاں بچے باہمی ذمہ داری سے پالتے ہیں۔ اس رسم کو ہماچل کی ریونیو قوانین کے تحت قانونی حیثیت بھی حاصل ہے۔
ہاٹی قبائل کو تین سال قبل ‘شیڈول ٹرائب’ کا درجہ ملا اور اس رسم کو ہماچل ہائی کورٹ نے قبول کیا۔ اس سے قدیم برادری کو اپنے ثقافتی حق میں تحفظ ملا، اگرچه یہ روایت اب نایاب ہوچکی ہے۔
تقریب میں دیہی گیت، رقص اور رسومات کے ساتھ، ‘سینج’ نامی رسم منعقد ہوئی جس میں دولہے دولہن پر پانی چھڑک کر انہیں خوش قسمت بنانے کی دعائیں دی گئیں۔ شادی کے مناظر کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جس نے عوامی توجہ حاصل کی اور ثقافتی بحث کو جنم دیا۔