اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں و ائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں نیشنل گارڈ کے دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔
امریکی میڈیا کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ اتوار کی شام اس وقت پیش آیا جب ایک شخص نے وہاں موجود نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر اچانک گولیاں برسادیں۔ابتدائی رپورٹس کے مطابق فائرنگ کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔ دونوں زخمی اہلکاروں کو تشویشناک حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے واقعے کی وجوہات اور ممکنہ محرکات کے بارے میں پوچھ گچھ جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک فائرنگ کے پس منظر کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ انتظامیہ اس واقعے کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بارے میں مکمل بریفنگ دے دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمی اہلکاروں کی صحت کے حوالے سے بھی انتظامیہ کو لمحہ بہ لمحہ اپڈیٹس دی جارہی ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق فائرنگ کے بعد وائٹ ہاؤس کو عارضی طور پر بند کردیا گیا جبکہ آئی اسٹریٹ سمیت قریبی علاقوں میں سیکیورٹی سخت کردی گئی۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر متاثرہ علاقے کے قریب جانے سے گریز کریں۔ادھر امریکی سیکریٹری آف ہوم لینڈ سیکیورٹی نے کہا ہے کہ ہم مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر واقعے کی مکمل معلومات جمع کر رہے ہیں۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔پولیس تفتیش جاری ہے اور حکام جلد مزید تفصیلات جاری کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں۔
500 اضافی اہلکار تعینات کرنے کا حکم
وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کے سنگین واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں **500 اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہر میں سیکیورٹی مزید سخت کرنا اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانا ہے۔امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے فائرنگ کے واقعے کے فوری بعد اضافی نفری تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق ’’اہلکاروں پر حملہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دارالحکومت کی سیکیورٹی ریاست کی اولین ترجیح ہے۔‘‘حکام کے مطابق اضافی 500 اہلکاروں کی تعیناتی کا مقصد نہ صرف حساس مقامات کی نگرانی مزید مؤثر بنانا ہے بلکہ شہریوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے ممکنہ خطرات کا بروقت سدباب بھی کرنا ہے۔
مشتبہ حملہ آور گرفتار
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کرنے والے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے واقعے کے متعلق تفتیش جاری ہے۔ حکام کے مطابق فائرنگ کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقاتی اداروں کو شامل کر لیا گیا ہے۔امریکی انتظامیہ کے مطابق واشنگٹن ڈی سی میں سیکیورٹی کا مجموعی جائزہ بھی لیا جارہا ہے، جبکہ صدر ٹرمپ کو واقعے سے متعلق مسلسل بریفنگ دی جارہی ہے۔