اردوورلڈ کینیڈا( ویب نیوز)Montreal West میں واقع Royal West Academy کے دو طلبہ پیر کی صبح اسکول جاتے ہوئے ایک کار کی ٹکر سے زخمی ہو گئے، جس کے بعد والدین نے متعلقہ چوراہے پر فوری اور مؤثر حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
بچوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی چوٹوں کو معمولی قرار دیا گیا، تاہم والدین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ایک سنگین وارننگ ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک والدہ الانا سائمرمین نے کہا کہ یہ سوچ کر ہی خوف آتا ہے کہ آپ کا بچہ سڑک عبور کر رہا ہو اور وہاں حفاظتی انتظامات ناکافی ہوں۔ ان کے مطابق اس مقام پر تقریباً ہر گھنٹے کوئی نہ کوئی حادثہ ہوتے ہوتے بچتا ہے۔
پولیس کے مطابق ایک گاڑی ویسٹ منسٹر اسٹریٹ پر جنوب کی جانب جا رہی تھی۔ ڈرائیور نے اسٹاپ سائن پر رکنے کے بعد اچانک گاڑی آگے بڑھائی اور اسکول کے دو طلبہ کو ٹکر مار دی۔
والدین کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے اس مقام پر بہتر حفاظتی اقدامات کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ گزشتہ سال شہر کی جانب سے چمکتے ہوئے اسٹاپ سائن نصب کیے گئے تھے، لیکن والدین کے مطابق صبح کے مصروف اوقات میں یہ اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
انگلش مونٹریال اسکول بورڈ کی ہائی اسکولز کے لیے والدین کی کمشنر جیسیکا ہوڈ ووائٹیوک کا کہنا ہے کہ بچوں کی حفاظت کے معاملے میں احتیاط کی کوئی حد مقرر نہیں کی جا سکتی۔
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ 2024 میں 14 سالہ چارلی شین بھی اسی چوراہے پر گاڑی کی زد میں آئے تھے، تاہم وہ محفوظ رہے تھے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ صبح کے اوقات میں جب گاڑیاں ہائی وے 20 کی طرف تیزی سے بڑھتی ہیں تو یہ علاقہ خاص طور پر خطرناک ہو جاتا ہے۔
انگلش مونٹریال اسکول بورڈ کے چیئرمین جو اورٹونا کے مطابق یہ اس چوراہے پر پیش آنے والا چوتھا واقعہ ہے جس میں کسی پیدل چلنے والے کو گاڑی نے ٹکر ماری ہو۔
رہائشیوں کا مطالبہ ہے کہ اینزلی اور ویسٹ منسٹر اسٹریٹس کے کونے پر ایک مستقل کراسنگ گارڈ تعینات کیا جائے تاکہ طلبہ محفوظ طریقے سے سڑک پار کر سکیں۔ صوبائی اسمبلی میں Quebec Liberal Party سے تعلق رکھنے والی رکن ڈیزری میگرا کا کہنا ہے کہ موجودہ قوانین کے تحت کراسنگ گارڈز صرف پرائمری اسکولوں کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں، حالانکہ نوعمر طلبہ بھی کم خطرے میں نہیں ہوتے، بلکہ بعض اوقات موبائل فون کے استعمال کی وجہ سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
والدین نے قانون میں تبدیلی کے مطالبے کے لیے ایک درخواست بھی شروع کی ہے، جس پر منگل تک تین ہزار سے زائد دستخط ہو چکے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگلے کسی حادثے سے پہلے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔