اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) تہران میں حکومت مخالف احتجاج کے تناظر میں ایرانی حکام نے سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں۔
ایران کے قومی پولیس سربراہ احمد رضا رادان نے مظاہروں میں شریک افراد کو تین دن کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر خود کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کر دیں، بصورت دیگر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔سرکاری نشریاتی ادارے پر خطاب کرتے ہوئے پولیس چیف کا کہنا تھا کہ ایسے نوجوان جو نادانی یا غلط فہمی کے باعث احتجاج کا حصہ بنے، انہیں ریاست دشمن نہیں سمجھا جا رہا۔ ان کے مطابق اگر یہ افراد مقررہ مدت کے اندر سرنڈر کر دیں تو ان کے ساتھ نرمی برتی جا سکتی ہے۔ تاہم احمد رضا رادان نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ مہلت ختم ہونے کے بعد قانون پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آئے گا اور کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
ایران میں یہ مظاہرے دسمبر کے اواخر میں معاشی مسائل، مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے مختلف حصوں میں پھیل گئے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ احتجاجی لہر حالیہ برسوں میں ایرانی قیادت کے لیے سب سے بڑا اندرونی چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے دوران بڑی تعداد میں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ بعض تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ گرفتار شدگان کی تعداد بیس ہزار تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک تین ہزار کے قریب افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
ایرانی حکومت کا مؤقف ہے کہ ابتدا میں احتجاج پُرامن تھا، تاہم بعد ازاں امریکا اور اسرائیل کی مبینہ حمایت سے یہ مظاہرے پرتشدد فسادات میں تبدیل ہو گئے، جن کا مقصد اسلامی جمہوریہ کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی صورتحال پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی اور ملکی یا غیر ملکی مجرموں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ملک میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث صورتحال بدستور سنگین ہے، جبکہ عالمی برادری انسانی حقوق کے حوالے سے ایران میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔